شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 185
۱۸۵ ود ر اس عظیم حکیم کا کام تو حقیقت پر ہی محمول ہوگا " پھر اپنی کتاب ختم النبوۃ فٹ پر لکھتے ہیں : خاتم النبیین کے یہی افضل النبیین۔ناقل ) عرفی - مجازی اور تاریخی معنی مراد لئے جائیں تو پھر آپ کی خصوصیت ہی کیا ہوئی ہے حضرت مرینی اور عیسی علیہما السلام کو بھی اس ترقی معنی کے اعتبار - خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔" اس بیان سے ظاہر ہے کہ ان مولوی صاحبان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین معنی افضل النبیین ہونے سے انکار ہے۔اور وہ ان معنی کو عرفی اور مجازی قرار دیتے ہیں۔اور حقیقی معنی اس کے آخری نبی قرار دیتے ہیں۔ہم نے تفصیل سے اپنے اس مضمون میں بحث کی ہے۔کہ آخری نبی خاتم النبیین کے حقیقی معنے نہیں۔بلکہ مجازی معنے ہیں۔بہر حال ان مولوی صاحبان کے نزدیک خاتم النبیین کے معنے افضل النبیین مجازی حرفی اور شاعرانہ مبالغہ ہیں۔اس لئے آخری نبی اس کے حقیقی معنی قرار دے کہ اُن کے ساتھ افضل النبیین کے معنوں کو قبول نہیں کرتے۔کیونکہ یہ معنی اُن کے نزدیک مبالغہ پر محمول ہیں۔اور خدا تعالیٰ کا کلام شاعرانہ مبالغہ پر محمول قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس کے متعلق عرض ہے کہ یہ تو درست ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو مبالغہ پر محمول قرار نہیں دیا جا سکتا۔اور خاتم المحدثین اور خاتم المفترین وغیرہ کے الفاظ بطور مبالغہ بھی کیسی بزرگ کے لئے ایک انسان ان معنوں میں استعمال کر سکتا ہے کہ یہ اپنے زمانہ میں افضل فرد ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کو مبالغہ کی