شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 184 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 184

۱۸۴ کے نزدیک خاتم النبیین کے تحقیقی معنے صرف آخری نبی ہیں اور افضل النبیین یا کوئی اگر معنی مجازی ہیں۔یہ دونوں معنے ایک ذات میں جمع نہیں ہو سکتے۔چنانچہ یہ دونوں صاحب لکھتے ہیں :- خدا کے کلام کو کسی شاعرانہ مبالغہ یا مجاز پر مشمول قرار نہیں دیا جا سکتا۔بلا ضرورت حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کو اختیار کرنا با جماع اصول تربیت نا جائز ہے ؟ مولوی محمد ادریس صاحب خاتم المحدثین اور خاتم المفسرین کے ضمن میں لکھتے ہیں :- یہ محاورہ اسی مقام پر استعمال ہوتا ہے کہ جہاں کسی کی فضلیت ثابت کرنی ہو۔اور ظاہر ہے کہ افضلیت جب ہی ثابت ہو سکتی ہے کہ جب کمال اور افضلیت کا آخری اور انتہائی درجہ اس کے لئے ثابت کیا جائے۔چونکہ بندہ اس قسم کے الفاظ کو اپنے علم کے مطابق استعمال کرتا ہے اس لئے اس کے الفاظ کو مبالغہ اور مجاز پر محمول کیا جاتا ہے۔" رختم النبوة ملت) " پھر آگے چل کر لکھتے ہیں :- یہ محاورہ یا تو بطور مبالغہ بولا جاتا ہے یا بطور تاویل کے کہ اپنے زمانہ کے آخری محقق اور آخری محدث ہیں " دختم النبوة شدا ) اس کے بعد تحریہ فرماتے ہیں :-