شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 183
١٨٣ نہیں ہو سکتے۔اور خاتم النبیین کا لقب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ا النبیین ہونے پر دال غیراحمدی علماء کا نام نہیں بے معنی فضل الہی سے انکار وغیرہ قرار دیا گیا ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ یہ بزرگ محدثیت تغیر دانی یا ولایت وغیرہ کے مرتبہ میں اکمل فرد ہیں۔اور ان کی شاگہ دی اور پیروی میں انسان محدث مغتر اور دلی بن سکتا ہے۔اس لحاظ سے خاتم المحدثین۔خاتم المفسرین یا خاتم الاولیاء کے معنے اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے افضل المحدثين بفضل المفترین یا افضل الاولیاء وغیرہ قرار پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خاتم النبیین اسی لئے قرار دیا ہے کہ آپ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع اور تمام انبیاء میں سے اکمل فرد ہیں۔یعنی نبوت میں انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے ہیں۔اور چونکہ آپ کا زمانہ قیامت تک ہے۔اس لئے آئندہ کمالات نبوت و مقام نبوت صرف آپ کی پیروی اور فیض سے ہی مل سکتا ہے۔لہذا خاتم النبیین کے ایک معنے یہ ہیں کہ آپ ہمیشہ ہمیش کے لئے فضل النبیین ہیں کیونکہ آپ نبوت میں انتہائی کمال پر پہنچے ہوئے ہیں۔مولوی محمد شفیع صاحب دیوبندی کو اپنی کتاب ختم النبوة في القرآن الشاه میں اور مولوی محمد ادریس صاحب کاندھلوی کو اپنی کتاب ختم النبوۃ کے صفحہ ۴۰ تا ۵۰ میں خاتم النبیین کے معنے افضل النبیین سے انکار ہے۔ان دونوں