شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 175 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 175

۱۷۵ رجب۔وجود ہیں۔جیسے مادی خاتم کے حقیقی معنے موثر وجود ہیں۔اگر ان دونوں قسم کی خاتموں کی اعراض ملتی جلتی ہوں تو اُن اغراض کو سمجھانے کے لئے ایک حقیقی خانم کو دوسری حقیقی خاتم سے تشبیہ سے یہ لازم نہیں آجاتا کہ پہلی خاتم جو مشبہ ہے وہ اب حقیقی نہیں مجازی خاتم بن گئی ہے۔چنانچہ ختم مصدر کے حقیقی معنی تاثیر الشی بیان کرنے کے بعد خود صاحب مفردات نے كنقش الخاتم کہ کر ختم کے معنوں کے مضمون کو ذہنوں سے قریب کرنے کے لئے ہی مثال دی ہے کہ ختم کی یوں تاثیر ہوتی ہے جیسے مہر اپنے نقوش دوسری چیز پر پیدا کرتی ہے۔پس اس مثال سے ختم کے حقیقی معنوں کی تمثیل کے ذریعہ وضاحت مقصود ہے نہ کچھ اور۔ورنہ ختم مصدر کے معنے تَأْشِيرُ الشَّيْء اس تمثیل سے حقیقی سے مجازی نہیں ہو جاتے۔: ایک عالم کو جب دوسرے عالم سے تشبیہہ دیں اور دونوں حقیقی عالم ہوں تو مشتبہ عالم اس تشبیہہ سے مجازی عالم نہیں بن جاتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں موسی علیہ السلام سے رسول ہونے میں تشبیہ دی گئی ہے تو کیا اس سے یہ لازم آجاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں مجازی رسول ہیں ؟ معاذ اللہ یہ خیال صریح باطل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور موسی علیہ السلام دونوں حقیقی رسول ہیں۔رسان العرب اور خاتم ! لسان العرب جو گفت کی معتبر کتاب ہے اس میں خاتم کے متعلق لکھتے ہیں:۔