شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 176
164 تُفْتَحُ تَارَةً وَتُكْسَرُ يُغَتَانِ کہ خاتم کی تار کی زیر اور زیر سے دو لفتیں ہیں۔پھر لکھتے ہیں :- وَالْخَلَمُ وَالْخَاتِمُ وَالْخَاتَمُ وَالْخَاتَامُ وَالْخَيْتَامُ مِنَ الْعُلي كانه أَوَّلَ وَهُلَةٍ خُتِمَ بِهِ فَدَخَلَ فِي بَابِ طَابِعِ ثُمَّ كَثرَ اسْتِعْمَالُهُ لِذلِكَ » کہ یہ سب الفاظ ایک زیور ( انگشتری ) کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔گویا پہلی دفعہ اس زیور کے ذریعہ مہر لگائی گئی۔اس لئے یہ طابع کے باب میں داخل ہو گیا۔اور طابع کے معنوں میں کثرت سے استعمال ہونے لگا۔اس سے ظاہر ہے کہ مادی مہر در اصل تو نگینہ کے نقوش ہیں اور ختم ان کا فعل تھا۔لیکن خیال کیا گیا ہ گویا وہ نگینہ جس کے نقوش کے ذریعہ پہلی دفعہ مہر لگائی گئی وہ انگشتری میں جڑا ہوا تھا۔اس لئے انگشتری بھی اُس کی مجاورت (یعنی ساتھ ہونے) کی وجہ سے بطور مجانی مرسل ختم یا خاتم یا خاتم وغیرہ کہلانے لگ گئی۔اس سارے بیان سے امام راغب کے اس بیان کی تائید ہوتی ہے کہ ختم کے اصلی اور حقیقی معنے تاثیر الٹی ہیں جیسے کہ نگینہ کے نقوش آ کے نقوش پیدا کرتے ہیں۔خَاتَم اور خاتم کی بناوٹ میں فرق ! خاشعر تار کی زیر کے ساتھ ختم مصدر سے ہم آلہ معنی بنا ختم کیا ہے۔تار زیر سے ہم کی شان خاتم السلام ))