شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 119 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 119

119 میں فرمایا ہے۔" إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ التي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ، نَحْنُ أَوْلِيَاء كُم في الحيوة الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ " حم السجدة ۴۴) یعنی جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ تعالٰی ہے اور اس پر استقامت دکھائی۔اُن پر بغدا تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں دان بشارتوں کے ساتھ ، کہ تم کوئی خوفنہ کرو اور غم نہ کرو۔اور اس جنت دینی کا میاب زندگی کی بشارت پاؤ جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو۔فرشتے انہیں کہتے ہیں، ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے مددگار ہیں اور آخرت میں بھی مددگار ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ خدا تعالے کا کلام استقامت دکھانے والے مومنوں پر نازل ہوتا ہے۔حضرت محی الدین ابن عربی نے ملائکہ کے اس نزول کو نبوت عامہ قرار دیا ہے۔دفتوحات مکیہ جلد ۲ ۲۲۰ ) اور آیت ہذا کی روشنی ہیں وہ نبوت کا دروازہ تا قیامت کھلا قرار دیتے ہیں۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:۔النُّبُوةُ سَادِيَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي الْخَلْقِ وَ إن كَانَ التَّشْرِيعُ قَدِ انْقَطَعَ فَالتَّشْرِيْمُ جُزْء مِنْ اجْزَاءِ النُّبُوَّةِ فتوحات بکیر جلد ۲ منت باسی (۸۲)