شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 120
یعنی نبوت قیامت تک مخلوق میں جاری ہے۔گو تشریعی نبوت منقطع ہو گئی ہے۔پس شریعت کا لاتا نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔پھر وہ شریعت لانے کو نبوت کی ایک جزو عارض قرار دیتے ہیں نہ کہ بی و ذاتی - دفتوحات مکیہ جلد اول فٹ اور نبوت ان کے نزدیک صرف اخبار اپنی کا نام ہے (فتوحات مکیہ جلد ۲ سوال ۱) اور اس نبوت کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ اخبار الہی کا منقطع ہونا ایک امر محال ہے کیونکہ اگر یہ نقطع ہو جائیں تو دنیا کے لئے کوئی روحانی غذا نہیں رہے گی۔جس سے وہ اپنے روحانی وجود کو باقی رکھ سکے۔(فتوحات مکیہ جلد ۲ فنت باب ۸۲) یہ سب حوالہ جات قبل ازیں ان کی عربی عبارات میں بیان ہو چکے ہیں رسول خدا صلی اللہ علی وقت نے فرمایا ہے کہ تم لوگوں سے پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن سے خدا ہمکلام ہوتارہا ہے۔میری اُمت میں کوئی ایسا ہے تو حضرت عمرہ ضرور ایسے ہیں ر صحیح بخاری مناقب عرض اس حدیث کے رو سے محدثین امت خدا کی ہمکلامی کا شرف پاتے رہے۔پس آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا المبشرات کی تشریح میں صحابہ کی دریافت پر اسے رویا صالح قرار دنیا اگر صحابہ یا عام مومنوں کے لحاظ سے نہ سمجھا جائے تو پھر اولیاء اللہ کے تجارب اور قرآنی آیت اِن الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلَ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اور حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کی اس آیت کی تفسیر کے لحاظ سے رؤیا کے لفظ کو وسیع معنوں میں لانا ضروری ہوگا۔اور مکاشفات صحیحہ اور الہام و وحی پر بھی تمل