شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 118 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 118

مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا المبشرات (صحیح بخاری کتاب الجبیر کہ النبوة میں سے المُبَشِّرَاتُ مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔اس جگہ المبشرات سے مراد نبوت کی ہی ایک نوع ہے۔اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبوت مطلقہ کی اقسام میں سے اب صرف المبشرات والی نبوت جو نبوت غیر تشریعی ہے باقی ہے۔اور تشریعی نبوت کی اب ضرورت باقی نہیں رہی۔کیونکہ قرآن مجید نے شریعیت کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔اسی نبوت کو صوفیاء کرام نبوت الولایت قرار دیتے ہیں۔اور اس نبوت کا دروازہ بموجب حدیث ہذا امت محمدیہ کے لئے قیامت تک کھلا قرار دیتے ہیں۔رؤيا المومن کی تشریح | جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے المبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تو صحابہ کرام نے آپ سے دریافت کیا کہ المبشرات کیا ہیں؟ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مومن کی رویائے صالحہ ہیں۔اس جواب سے ظاہر ہے کہ المبشرات صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وکم پر ایمان رکھنے والے یا دوسرے لفظوں میں آپ کے امتی کو ہی مل سکتی ہیں۔المبشرات کو رویائے صالحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ یا عام مومنوں کے لحاظ سے فرمایا ہے ورنہ اس جگہ رڈیا کے لفظ کو اس کے وسیع معنوں میں لیا جانا چاہئے جن میں مومنوں کی خوابوں کے علاوہ مکاشفات صحیحیہ اور دگی غیر تشریعی بھی داخل ہے۔کیونکہ محدثین امت کے تجار سے مکاشفات الہیہ کے علاوہ ان پر وحی و الہام کا نزول بھی ثابت ہے۔حضرت مجدد الف ثانی 2 بموجب حدیث نبوی محدث کے لئے کثرت سے خدا کی ہمکلامی کا شرف پانا بیان فرماتے ہیں۔(ملاحظہ ہو مکتوبات جلد اول مکتوب را ۵ ) اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید