شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 117 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 117

116 یعنی ہر نبی ولایت مطلق دلی سے افضل ہے۔اور اسی وجہ سے کوہا گیا ہے کہ نبی کا آغاز ولی کی انتہا ہے۔پس اس نکتہ کو سمجھ لو۔اور اس میں غور کرو کیونکہ یہ ہمارے بہت سے اہل ملت پر مخفی رہا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ علمائے ربانی کے نزدیک بہت سے انبیاء بنی اسرائیل بھی نبی الاولیاء تھے۔اور اُن کی نبوت " نبوت الولایت تھی۔یعنی وہ غیر تشریعی انبیا، تھے۔یہ سب غیر تشریعی نبی اور امت محمدیہ کے انبیاء الاولیاء بھی مطلق اولیاء سے افضل ہیں۔اور امت محمدیہ کا مسیح موجود بھی نبی الاولیاء ہے۔تشریعی نبی نہیں۔ان علمائے ربانی نے چونکہ بنی اسرائیل کے غیر تشریعی انبیاء کو جو تقل بنبی تھے انبیاء الاولیاء ہی قرار دیا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے نبی الاولیاء کی اصطلاح کی بجائے اپنے لئے " انتی بی" یا "ظلی نبی کی اصطلاح اختیار فرمائی ہے۔تا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کی پیروی اور آپ کے افاضہ روحانیہ پر دلیل رہے۔اتنی نبی اور ظلی نبی کی اصطلاح میں انبیاء الاولیاء کی اصطلاح کی نسبت زیادہ احتیاط ہے۔اس لئے کہ امتی نبی اوملتی نبی کی اصطلاح استعمال کی جانے سے کسی شخص کو یہ اشتباہ پیدا نہیں ہو سکتا کہ یہ شخص مستقلہ نبوت کا مدعی ہے بلکہ اس دعوی سے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت کمالات اور افاضہ کاملہ کا واضح ثبوت ملتا ہے۔المبشرات نبوت مطلقہ ہیں میں بتا چکا ہوں کہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔لم يبق