سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 597 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 597

533 اس چائے پر اُن کی زندگی کا ایک اور گوشہ میرے سامنے آیا جس سے میں ابھی تک قطعاً نا واقف تھا۔اس گوشے کا تعلق لطافت طبع اور ذوق ادب سے تھا۔چائے شروع ہوئی تو چند نو جوانوں نے مووی کیمرہ سے حضرت صاحب سمیت ہم سب کی تصاویر لیں۔اور چند منٹ تک یہ نو جوان اس کمرے میں موجود رہے پھر معلوم نہیں وہ از خود ہی چلے گئے یا حضرت صاحب نے اشارہ فرما دیا کہ وہ چلے جائیں۔بہر حال اب ہم تینوں ادیب تھے اور حضرت صاحب اور کوئی نہ تھا۔باتوں باتوں میں گزشتہ رات کے انعامی مقابلہ تقاریر اور مشاعرے کا ذکر آگیا۔مولانا سالک مرحوم نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی غیر معمولی انتظامی قابلیت کو بہت سراہا اور کہا کہ اگر اسی قسم کی متانت اور شائستگی قائم رہے تو ایسے ادبی اجتماع اکثر منعقد ہوتے رہنے چاہئیں۔ان کی افادیت بہت ہے“ حضرت صاحب نے سالک صاحب مرحوم کی یہ تجویز پسند فرمائی پھر ادبیات پر گفتگو شروع ہو گئی۔مجھے اس بات سے سخت حیرت ہوئی کہ حضرت صاحب کا ادبی ذوق نہایت منجھا ہوا اور انتہائی دقیقہ رس ہے۔ادب کی نازک لطافتوں کا ذکر آیا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کو ان پر صرف عبور ہی حاصل نہیں بلکہ یہ خود ان کی طبیعت کا حصہ ہیں۔کسی نظام کا سربراہ یا کسی قوم کا پیشوا ہونا جُدا بات ہے اور انتہائی لطیف ادبی ذوق کا حامل نا قطعی طور پر دوسری چیز ہے۔پھر آپ کا اپنا کلام بھی بہت ہی بلند پایہ ہے۔اپنی چھوٹی تقطیع کی ایک کتاب ” کلام محمود اپنے دستخط ثبت فرما کر مجھے مرحمت فرمائی جو اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سے میری آخری ملاقات ۱۹۶۰ء میں ہوئی۔اُس وقت محترم حکیم یوسف حسن صاحب ایڈیٹر نیرنگ خیال بھی میرے ہمراہ تھے۔ہم محض حضرت صاحب سے ملاقی ہو نے ربوہ گئے تھے۔ربوہ میں داخل ہوتے ہی ہم نے حضرت صاحب کے سیکرٹری کو ٹیلیفون پر اپنی آمد کی اطلاع دی تو چند منٹ میں شیخ روشن دین صاحب تنویر ایڈیٹر ”الفضل“ ہمارے پاس پہنچ گئے۔شیخ صاحب انتہائی مخلص آدمی ہیں۔یہ جمعرات کا دن تھا۔معلوم