سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 596
532 صاحب اَعْلَے اللهُ مَقَامَهُ اور دیگر چوٹی کے مسلم اکابر نے مجھے نمائندہ بنا کر بھیجا کہ حضرت صاحب سے اس باب میں تفصیلی بات چیت کروں اور اسلام کے خلاف اس فتنے کے تدارک کے لئے ان کی ہدایات حاصل کروں۔یہ مشن بہت خفیہ تھا کیونکہ ہندوستان کے چوٹی کے مسلمان اکابر جہاں یہ سمجھتے تھے کہ ہندوؤں کے اس ناپاک منصوبے کا مؤثر جواب مسلمانوں کی طرف سے صرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی دے سکتے ہیں۔وہاں وہ عام مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ حضرت صاحب کو اپنا رہبر تسلیم کرتے ہیں۔میں اس سلسلے میں قادیان تین دن مقیم رہا اور حضرت صاحب سے کئی تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں دو باتیں مجھ پر واضح ہو گئیں ایک یہ کہ حضرت صاحب کو اسلام اور حضور سرور کائنات علیہ السلام سے جو عشق ہے اس کی مثال اس دور میں ملنا محال ہے۔دوسرے یہ کہ تحفظ اسلام کے لئے جو اہم نکات حضرت صاحب کو سو جھتے ہیں وہ کسی دیگر مسلم لیڈر کے ذہن سے مخفی رہتے ہیں۔میرا یہ مشن بہت کامیاب رہا اور میں نے دہلی جا کر جو رپورٹ پیش کی اس سے مسلم زعماء کے حوصلے بلند سے بلند تر ہو گئے۔فروری ۱۹۵۶ء کے پہلے ہفتہ میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب موجودہ امام جماعت احمدیہ کے ارشاد پر تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے پروفیسر خان نصیر احمد خان لاہور تشریف لائے اور مولانا عبد المجید سالک مرحوم و مغفور، چوہدری عبدالرشید تبسم ایم۔اے اور مجھے موٹر کار میں ربوہ لے گئے وہاں ایک انعامی مقابلہ تقاریر اور مشاعرہ کا انعقاد تھا جس میں ہماری شرکت ضروری سمجھی گئی۔ربوہ میں اس روز شام کو پہلے انعامی مقابلہ تقاریر ہوا جس میں ہم تینوں نے حج کے فرائض انجادم دیئے اور پھر مولانا عبدالمجید سالک مرحوم و مغفور کی زیر صدارت مشاعرہ ہوا۔یہ دونوں تقریبیں بہت کامیاب رہیں۔دوسرے دن حضرت صاحب نے بعد دو پہر ہم تینوں کو چائے پر یاد فرمایا۔میں حضرت صاحب سے گزشتہ ملاقاتوں میں اُن کی بے مثال سیاسی بصیرت اور اسلام سے متعلق انتہائی غیرت کا تہہ دل سے قائل ہو چکا تھا لیکن