سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 580 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 580

522 سا عالم تھا اور خود فراموشی کا ایک دریا تھا جس میں بہتے چلے جا رہے تھے جب رستہ میں کسی نے اس خبر کے غلط ہونے کا ذکر کیا تو بے اختیار خوشی کے آنسو نکل الفضل ۱۰۔جون ۱۹۳۰ء صفریم ) قادیان اور بیرونی جماعتوں میں صدقات دیئے گئے۔مکرم ملک عبد الرحمان صاحب خادم نے دکھ اور درد کی کیفیت کو ایک نظم میں بیان کیا۔جس کے تین اشعار درج ذیل ہیں۔آئے سے کانوں میں پڑی ہے خبر میں نے وہ اخبار چاک آنکھ پرنم ہے ނ دیکھا ہے دل ہے صد پاره تجھ ہے ہے سینہ فگار و زماں رونق زمین جہاں کی بہار یہ تو جماعت کی حالت تھی غیر از جماعت افراد میں سے ملتِ اسلامیہ کا درد رکھنے والے اور سنجیدہ لوگوں نے اس خبر کو بری طرح محسوس کیا۔سید محسن شاہ صاحب ایڈووکیٹ لاہور نے بڑی حسرت سے کہا۔مسلمانوں کو اس وقت راہِ راست پر چلانے والا ایک ہی شخص تھا وہ بھی چلا گیا تو باقی کیا رہا۔“ الفضل ۱۲ جون ۱۹۳۰ ء صفحه ۲ مفہوماً) جسو کی ضلع گجرات کے شیعہ احباب نے اخبار ٹریبیون کے اس ناپاک پرو پیگنڈاہ اور غلط خبر چھاپنے پر مذمت کا ریزولیوشن پاس کیا۔( الفضل ۱۹۔جون ۱۹۳۰ء) احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے انگریزی رسالہ ”لائٹ (LIGHT) نے اپنی یکم جون کی اشاعت میں سیاہ حاشیہ میں 'مرزا بشیر الدین محمود احمد' کے عنوان سے اس خبر کے حوالہ سے لکھا : - ہم گہرے رنج اور افسوس کے ساتھ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، سلسلہ احمدیہ کے قادیان حصہ کے امام کی وفات کی خبر درج کرتے ہیں جو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہوئی یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمیں آپ سے بعض