سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 579 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 579

521 فقیر علی صاحب اسٹیشن ماسٹر گھبرائے ہوئے بھاگے چلے آئے ہیں۔میں محسوس کرتا تھا کہ گھبراہٹ میں ان کا قدم با وجود کوشش کے پوری تیزی سے نہیں اُٹھ رہا۔مجھے سے ابھی وہ فاصلے پر تھے کہ میں نے پوچھا خیر تو ہے۔انہوں نے کہا حضرت صاحب کی طبیعت کیسی ہے؟ میں نے جواب دیا اچھی ہے۔مگر میرے کہنے سے ان کی تسلی نہیں ہوئی وہ بھاگے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ لاہور میں کسی بدمعاش نے جھوٹی خبر اُڑا دی ہے۔۔۔میں نے کہا کیوں تم نے سٹیشن پر ہی اس کی تردید نہ کر دی۔انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور بھاگتے چلے گئے۔میں نے اس نظارہ کو دیکھا اور تعجب کیا۔مگر معا میں نے محسوس کیا کہ یہ محبت کا ایک (الفضل ۱۳ جون ۱۹۳۰ء صفحہ ۷ ) کرشمہ ہے۔باہر سے آنے والے پروانوں کی حالت بھی مکرم عرفانی صاحب نے بیان کی ہے آپ لکھتے ہیں :- وو میں جو راستہ پر بیٹھتا ہوں ان آنے والوں کو دیکھتا تھا کہ وہ محبت اور اخلاص کے پیکر ہیں۔انہیں دورانِ سفر میں اس خبر کا افتراء ہونا کھل چکا تھا مگر ان کی بے قراری ہر آن بڑھ رہی تھی اور یہ صرف اعجاز محبت تھا یہ دوست اپنی اسی بے قراری میں قصر خلافت کی طرف بھاگے جا رہے تھے میں نے دیکھا بعض ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے اس سفر میں نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ان طبعی تقاضوں پر بھی محبت کا غلبہ تھا۔جب تک قصر خلافت میں جا کر انہوں نے اپنے امام کو دیکھ نہ لیا اور مصافحہ اور معانقہ کی سعادت حاصل نہ کر لی ان کے دل بے قرار کو قرار نہ آیا۔الفضل ۱۵۔جون ۱۹۳۰ء صفحہ ۷ ) اخبار الفضل محبت کی دیوانگی اور جنون میں از خود رفتہ ہو کر آنے والے مسافروں کے متعلق لکھتا ہے :- جو احباب یہ افواہ سن کر گھروں سے دیوانہ وار چل پڑے ان کا بیان ہے کہ شدت غم و الم سے از خود رفتہ ہو جانے کی وجہ سے انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ گاڑی میں کون لوگ بیٹھے ہیں اور وہ کس کس سٹیشن سے گزر رہے ہیں۔وفور غم واندوہ کی وجہ سے آنسو بھی نہ نکلتے تھے۔بس ایک بے ہوشی کا