سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 578
520 محبت کا خوب خوب اظہار ہوا۔ہوا یوں کہ اس زمانہ کے مشہور انگریزی اخبار ٹریبیون (TRIBUNE) میں امرتسر کے نامہ نگار کے حوالہ سے ۳۔جون کو ایک خبر شائع ہوئی کہ امام جماعت احمدیہ کا اچانک انتقال ہو گیا ہے۔اخبار نے اس پر ایک شذرہ بھی لکھ دیا۔(اس خبر کی Date Line ۳۱ مئی کی تھی ) یہ جھوٹی خبر جماعت پر غم واندوہ کا پہاڑ بن کر گری اور اس نے ہندوستان کے طول وعرض میں جماعت کو ہلا کر رکھ دیا اور ہر احمدی اپنی اپنی جگہ رنج والم کی تصویر بن کر رہ گیا۔دور دراز علاقوں میں اکا دکا رہنے والے احمدی خاص طور پر اس تشویش کا شکار ہوئے مگر جماعتوں کی حالت بھی پریشانی اور تکلیف کے لحاظ سے نا قابل بیان تھی۔الفضل ۱۰۔جون ۱۹۳۰ء نے اس خبر کے متعلق بجا طور پر لکھا کہ :- اس سراسر جھوٹی اطلاع نے حضور کی ذات والا صفات کے متعلق جماعت احمدیہ کے لئے اس قدر رنج و الم اور غم واندوہ پیدا کر دیا جس کا اندازہ امکان سے باہر ہے۔اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ بجلی کی طرح آن کی آن میں ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ گئی اور جس احمدی تک بھی پہنچی اس پر ایک قیامت ڈھا گئی بہت سے احمدی احباب کا بیان ہے کہ ٹریبیون کی خبر کان میں پڑتے ہی دماغ معطل ہو گیا ، ہاتھ پاؤں پھول گئے ، گویائی کی قوت سلب ہوگئی اور گھر کے لوگوں کو بتانا مشکل ہو گیا اور جب بتایا گیا تو گھروں میں شور مچ گیا۔مرد عورت ، بوڑھے ، جوان جلد سے جلد قادیان پہنچنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔چنانچہ جہاں جہاں سے تردید کی اطلاع پہنچنے سے پہلے کوئی گاڑی چلتی تھی وہاں کے احباب فوراً روانہ ہو گئے اور جہاں روانگی میں دیر تھی یا جلدی پہنچنا مشکل تھا وہاں سے واپسی تاروں کا تانتا بندھ گیا الفضل ۱۰۔جون ۱۹۳۰ ء صفحه ۴) قادیان کے احمدیوں کی حالت بھی اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح ہی تھی۔ان کو یہ معلوم تھا کہ حضور اللہ کے فضل سے خیریت سے ہیں مگر اس منحوس افواہ کی دہشت ہی ایسی تھی کہ جو بھی سنتا بے قرار ہو جاتا۔حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ : میں حسب معمول اپنے دفتر کے برآمدہ میں بیٹھا تھا کہ مکرمی مولوی ///// ////