سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 513 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 513

455 اچھے صحت افزا پہاڑ پر چلے جانا چاہئے اور ناک کی ورم کو کل میں CAUTEISE کروں گا۔“ (صفحه ۱۳۹٬۱۳۸۔ایاز محمود جلد اوّل) حضرت ڈاکٹر صاحب کو ایک لمبا عرصہ بڑے خلوص سے حضور کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔حضور ان سے بہت بے تکلفی اور پیار کا سلوک فرماتے اور متعدد مرتبہ ان کی خدمات کی تعریف فرمائی بلکہ انہیں واقف زندگی اور اپنے خاندان کا فرد قرار دیتے ہوئے فرمایا:- میں نے یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ سوائے اپنے عزیزوں کے یا ایسے لوگوں کے جن کے تعلقات دینی یا تمدنی لحاظ سے اس قسم کے ہوں جن کی وجہ سے وہ گویا کالا قرِ بَاءِ ہی سمجھے جانے کے قابل ہیں جب تک میری صحت اچھی نہیں ہوتی کوئی نکاح نہیں پڑھایا کروں گا۔اس اعلان کے بعد میں نے بعض واقفین تحریک جدید کے نکاح پڑھے ہیں کیونکہ جو شخص زندگی وقف کرتا ہے وہ ایک ایسا تعلق دین اور اسلام سے پیدا کر لیتا ہے کہ گویا وہ سلسلہ کی اولاد ہے اور جو سلسلہ کی اولاد بن جائے وہ کسی صورت میں ہمیں اپنی اولادوں سے کم نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا تعلق دینی لحاظ سے ہے اور رشتہ داروں کا دُنیوی لحاظ سے گورشتہ داروں کا دینی لحاظ سے بھی تعلق ہوتا ہے مگر ظاہری اور ابتدائی تعلق ان کا دُنیوی لحاظ سے ہی ہوتا ہے۔آج بھی اس اصل کے ماتحت میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے لڑکے کا نکاح پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں میں نے یہ بھی اعلان کیا ہوا ہے کہ جب بھی ایک نکاح کے اعلان کے لئے کھڑا ہوں تو اگر کوئی اور فارم بھی ساتھ ہوں تو ان کے مطابق نکاحوں کا اعلان مجھ پر کوئی بوجھ نہیں ڈال سکتا۔آج بھی بعض اور فارم آئے ہیں ان کے متعلق بھی اعلان ساتھ ہی کروں گا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اپنی ذات میں واقف زندگی ہیں یعنی انہوں نے اپنی زندگی سلسلہ کے لئے وقف کر رکھی ہے اور ایک لمبے عرصے سے جو ۲۵ سال سے بھی زائد ہے وہ اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے ہیں۔پھر ان کا ذاتی تعلق بھی میرے ساتھ اس قسم کا ہے کہ جو ان کو اس بات کا مستحق بنا دیتا ہے کہ ان کے ساتھ خاص سلوک کیا جائے اور اسی وجہ سے میں آ بھی گیا ہوں ورنہ