سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 514 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 514

456 66 مجھے درد کی ایسی تکلیف ہے کہ سجدہ کرنا اور بیٹھنا مشکل ہے اور اس وقت درد بھی صبح کی نسبت کچھ زیادہ ہی تھی۔“ ( خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۵۹۷-۵۹۸) حضرت مفتی فضل الرحمان صاحب قادیان لکھتے ہیں :- لائیں۔۔۔ے۔دسمبر ۱۹۳۰ء شام کو جب میں کھانا کھا چکا تو مجھے سردی محسوس ہوئی اور ایک ہی گھنٹہ کے اندر اندر بخار ۱۰۵ ہو گیا۔رات بھر اور دوسرے دن علاج معالجہ ہوتا رہا مگر بخار کم نہ ہوا۔9 کی صبح کو مسہل لیا مگر شام کے قریب پھر دیکھا تو بخار بدستور ۱۰۵ اور پیٹ میں نفخ شروع ہو گیا جس سے سانس میں ایسی تنگی ہوئی کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ایسی حالت اور رات کا وقت ، خوش قسمتی سے مائی کا کو (حضرت کی خادمہ ) آئی اور یہ حالت دیکھ کر سارے خاندانِ نبوت میں اس کی اطلاع کی ، حضرت اماں جان مع چند اور مستورات کے اسی وقت تشریف چند ہی منٹ کے بعد حضور خود تشریف لے آئے اور علاج کی ہدایات دیں۔کچھ دیر کے بعد میں نے آنکھ کھولی اور حضور کو دیکھ کر عرض کیا میں مرنے سے نہیں ڈرتا۔موت مومن کا معراج ہے صرف ان خورد سال بچوں کا خیال ہے کہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو باقیوں کو سنبھال سکے۔سب کے سب رو کر روٹی مانگنے والے ہیں۔فرمایا :- گھبراؤ نہیں صبح تپ ٹوٹ جائے گا“ میں جو طبیب تھا اور اسباب پر نظر تھی کہا کس طرح نہ پانچواں دن ، نہ ساتواں ، نہ نواں۔فرمایا قانون بنانے والا اپنے قانون کو تو ڑ بھی سکتا ہے۔۔رات بھر بخار ۱۰۵ رہا۔صبح ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب دریافت حال کے لئے تشریف لائے تھرما میٹر لگایا تو معلوم ہوا ۹۸ سے اوپر نہیں چڑھتا۔یہ واقعی ایک نشان حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہ اور قبولیت دعا کا ہے کہ اس طرح یکدم بخار ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔الفضل ۲۰۔دسمبر ۱۹۳۰ صفحه ۶ ) محترم ماسٹر محمد ابراھیم صاحب جمونی کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے متعدد خواتین مبارکہ کو پڑھانے کی سعادت حاصل کی تھی۔حضور نے ہمیشہ اس امر کو بڑی قدر دانی سے یا درکھا ان حسین یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مکرم ماسٹر صاحب لکھتے ہیں :-