سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 512
454 صاحب کو جب گلا دکھایا تو انہوں نے کہا تقریر بند کر دینی چاہئے۔میں نے کہا یہ ناممکن ہے۔انہوں نے کہا پھر میرے علاج سے زیادہ فائدہ کی توقع نہیں۔مگر ایک کام کے شروع کرنے یا بند کرنے کے لئے کئی پہلوؤں پر غور کرنا پڑتا ہے ایک طرف طبی رائے ہے جو تقریر بند کرنا لازمی قرار دیتی ہے۔دوسری طرف جماعت کا تعلق ہے جس کا ہر فرد یہ خواہش رکھتا ہے کہ میری باتوں کا جواب سب سے پہلے دیا جائے۔میرے بارہ میں تو تھوڑی سی گفتگو کی ضرورت پڑے گی۔حالانکہ اس کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ طب کے لحاظ سے وہ چھوٹی سے چھوٹی گفتگو بھی بڑا ضرر پہنچا سکتی ہے۔الغرض ایک طرف طبی رائے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔دوسری طرف جماعت کے احساسات اور ضروریات کو۔یہی وجہ ہے کہ باوجود مشورہ کے میں تقریروں کا سلسلہ بند نہیں کر سکا۔تو کسی قدر کمی کی ہے۔ملک صاحب نے کہا میں تو پھر یہی کہوں گا کہ اگر اس وقت تک تقریریں بند نہیں کیں تو آج سے ضرور بند کر دی جاویں۔“ اسی روز لاہور سے اطلاع آئی کہ ڈاکٹر انیسورتھ صاحب جو ناک آنکھ اور گلے کے مخصوص ڈاکٹر ہیں۔۱۵۔جون تک ہی کام کریں گے۔اور ۱۴۔جون کو حضرت صاحب کے لئے وقت دیا ہے۔بعد مشورہ حضور ۱۳ کی شام کوے بجے لاہور روانہ ہوئے۔اور بٹالہ تک بیل گاڑی میں لیٹے ہوئے سفر کیا۔راستہ میں ٹھہرتے ہوئے قریب دو بجے رات کے بٹالہ پہنچے۔۱۴ کی صبح کو را ۱۰ بجے لاہور پہنچے۔کوفت سفر اور بخار کی وجہ سے دن بھر نڈھال رہے۔مگر خدا کے فضل سے بخار نہ ہوا، شام کو ڈاکٹری معائنہ ہوا، ناک، گلے اور چھاتی کے معائنہ کے بعد ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ناک میں ایک طرف ورم ہے، اسی جگہ جہاں دو بار آپریشن ہو چکا ہے اور اسی وجہ سے گلے میں پرانی IMFLAWMATION ہے اور حنجرے پر کچھ مواد جما ہوا ہے۔زخم وغیرہ بالکل نہیں ہے، حجرے کے تار خوب مضبوط ہیں اور اچھی طرح حرکت کرتے ہیں۔چھاتی میں بھی میرے نزدیک کوئی نقص نہیں ہے البتہ دل کمزور ہے۔ان تمام حالتوں کی وجہ سے کسی د حلق۔گلا