سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 435 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 435

392 اتنا پسند آیا کہ کہنے لگی مجھے لکھ دیں۔حضور نے مجھے فرمایا اسے شعر لکھ کر دیدو چنانچہ میں نے اُسے لکھ کر دیدیا۔عزیزہ امتہ المتین چھوٹی سی تھی میں نے کہا آپ اس کے لئے کوئی بچوں والی نظم کہہ دیں میں اسے یاد کروا دوں آپ نے بالکل ہی بچوں کی نظم کہہ دی ( عزیزہ کی عمر غالبا چار سال تھی) وہ نظم یہ تھی۔چوں چوں کرتی چڑیا آئی چونچ میں اپنی تنکا لائی تنکوں سے اس نے گھونسلا بنایا پتوں سے پھر اس کو سجایا پھر اس میں انڈے دینے بیٹھی انڈے دے کر سینے بیٹھی کچھ انڈے تو کچھ نکلے بچے نکلے بچوں نے وہ شور مچایا سارے گھر کو اٹھایا باقی میں سے کوئی کہتا اماں کھانا کوئی کہتا پانی پلانا چڑیا بولی پیارے بچو غل نہ مچاؤ صبر سے بیٹھو ابا کام سے آتے ہونگے دانه دنكا لاتے ہونگے تم سب بیٹھ کے کھانا کھانا پھر سب مل کے سیر کو جانا کہنے کو تو یہ بچوں کے اشعار ہیں اور ایک مصروف آدمی کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑے مگر یہ بالکل ہی بچگانہ نظم اس امر پر روشنی ڈالتی ہے کہ آپ کو بچوں کی خواہشات پورا کرنے کی طرف کتنی توجہ تھی۔چڑیا والی نظم تو کھڑے کھڑے شاید پانچ منٹ میں آپ نے کہی اور متین کو یاد کروا کے سنی بھی۔کچھ عرصہ کے بعد ایک دن آئے تو ایک کاغذ پر اپنے ہاتھ سے طوطے پر ایک نظم لکھی ہوئی تھی کہنے لگے لو میں تمہارے لئے نظم لکھ کر لایا ہوں یاد کر لو۔متین کو طوطا پالنے کا بچپن میں بہت شوق تھا۔یہ نظم بھی درج ذیل کرتی ہوں یہ حضور کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی میرے پاس محفوظ ہے۔