سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 434
391 حضور نے اپنی ساری زندگی کمال خلوص سے خدمتِ دین کے لئے وقف کئے رکھی اور اپنے سارے بیٹوں کو بھی وقف کر دیا اور بیٹیوں کی شادیاں بھی بالعموم واقفین زندگی سے ہی کیں اور اس طرح ساری زندگی قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ كى عملی تفسیر و تشریح میں بسر کر دی۔شدید مصروفیات کے باوجود بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بھی وقت نکال لیتے تھے بلکہ ان کو بہلانے کے لئے بھی ہر طرح کوشش فرماتے۔اس سلسلہ میں حضرت چھوٹی آپا ام متین صاحبہ کا مندرجہ ذیل بیان بہت دلچسپ اور معلومات افزاء ہے۔آپ مھتی ہیں :- میں نے متعدد بار انتہائی مصروفیت کے باوجود آپ کو بچوں کو گود میں اُٹھا کر بہلاتے دیکھا اور لوریاں دیتے سنا ہے۔گلے سے لگا کر ٹہلتے ہوئے نہایت پیارے انداز میں اور نہایت خوبصورتی سے آپ یہ شعر پڑھتے تھے۔بَلَغَ الْعُلَى بكماله كَشَفَ الدجى بجَمَالِهِ حَسُنَتْ جَمِيعُ خِصَالِه صَلُّوا عَلَيْهِ اله یہ آپ کے محبوب اشعار تھے جو آپ گنگنایا کرتے تھے۔گوان کے علاوہ اور اشعار بھی پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے۔آواز اتنی پیاری تھی کہ کیسا ہی بچہ رور ہا ہو فوراً خاموش ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ کسی بچہ کو اُٹھایا ہوا تھا اور یہ شعر پڑھ رہے تھے جو آپ کو بہت پسند تھا۔رَأَيْتُ ظَبياً عَلى كَثِيبٍ يُحَجِّلُ الْوَرُدَ وَ الْهَلَالَا فَقُلْتُ مَاسْمُكَ فَقَالَ لُؤْلُوْ فَقُلْتُ لِي لِي فَقَالَ لَا لَا جب ہم ۱۹۵۵ء میں حضور کے علاج کے لئے یورپ گئے تو ایک ہفتہ دمشق میں بھی ٹھہرے۔وہاں مکرمی بدر الحصنی صاحب جن کے گھر میں ہمارا قیام تھا کی ایک بیٹی اپنی بچی کو لے کر آئیں کہ حضور! اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیں اور دعا فرمائیں۔آپ نے فرمایا بچی کا نام کیا ہے؟ کہنے لگیں ہم اسے پیار سے لؤلؤ، کہتے ہیں۔حضور نے اُسی وقت بے ساختہ یہی شعر پڑھا۔بچی کی ماں کو