سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 436
393 درخت پر طوطا اور گاؤں کے بچے پیارے طوطے بھولے بھالے ہم ہیں تیرے چاہنے والے تیرا سبز لباس غضب ہے کیا ہی پھبن ہے کیسی چھب ہے اوپر لال سی جاکٹ ہے سج کر بیٹھا ہے بن گہنے جب بیٹھا ہو پیٹر کے اوپر کھیل رہے ہو پر پھیلا کر اس کی سبزی مجھکو چھپائے رنگ ترا اس سے مل جائے کیوں بیٹھا ہے پیر پہ جا بیٹھ ہمارے پاس تو آکر تجھکو ہم چوری ڈالیں گے پیار و محبت سے پالیں گے بیر اور گئے لائیں گے ہم تجھ کو خوب کھلائیں گے ہم پنجرہ اک اچھا سا بنا کر رکھیں گے تجھے اس میں چھپا کر میٹھے بول سکھائیں گے ہم تجھ کو خوب پڑھائیں گے ہم بیٹھ کے تیری باتیں سنیں گے تجھ سے کوئی کام نہ لیں گے اپنا نام تو ہم کو بتا جا ہے۔کیوں ہے نا پیارا؟ اچھے طوطے گر نہیں آتا طوطا بولا نام ہمارا کہتے ہی پر پھیلا کر میٹھو تول کے دم اور چونچ دبا کر اڑ گیا طوطا شور مچا کر چھپ گیا وہ بادل میں جا کر عزیزہ متین جب پانچ سال کی تھی تو میں نے کہا اسے کوئی دینی نظم لکھ کر دیں۔اس پر آپ نے وہ نظم کہی جو کلام محمود میں اطفال احمدیہ کے ترانہ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔یہ متین کو بنا کر دی تھی اور میں نے اسے یاد کروائی تھی۔اس نظم کا پہلا شعر ہے۔مری رات دن بس یہی اک صدا ہے کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے شروع میں چھ سات شعر کہہ کر دیے تھے کہ اسے یاد کروا دو۔پھر کچھ