سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 251 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 251

228 لیاقت پارک سب سے پہلے حضور لیاقت پارک تشریف لے گئے حضور نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مکانات سلسلہ وار پلان کے مطابق بنائے گئے ہیں۔حضور نے فرمایا لوگوں کو بارش کی وجہ سے تکلیف تو بہت اٹھانی پڑی لیکن انہیں ایک فائدہ بھی پہنچا ہے اور وہ یہ کہ اب جھونپڑیوں کی بجائے پکے مکان بن گئے ہیں اور ترتیب وغیرہ کا لحاظ رکھنے کے باعث صفائی وغیرہ بھی آ گئی ہے۔وہاں ابھی بعض مکانات پر چھتیں نہیں پڑی تھیں انہیں دیکھ کر حضور نے فرمایا سردی تو اب دن بدن بڑھتی ہی جائے گی انہیں جلد مکمل کرنا چاہئے اس پر علاقہ کے ایک ذمہ دار صاحب نے حضور کو بتایا کہ سامان تعمیر کی کمی کی وجہ سے چھتیں نہیں پڑسکیں اب ان پر چھپر وغیرہ ڈالنے کی تجویز ہے تا کہ یہ رہائش کے قابل بن سکیں۔رہائش کا مستقل انتظام لیاقت پارک سے حضور خدام کے ہمراہ کشمیر روڈ پہنچے وہاں چھوٹے چھوٹے مکانوں اور جھونپڑیوں کی ایک بستی ہے جس میں کثرت سے مہاجر آباد ہیں جو سب کے سب پیشہ ور لوگ ہیں۔یہاں خدام الاحمدیہ لا ہور کی امدادی پارٹیاں نہایت مستعدی سے ریلیف کا کام کرتی رہی ہیں۔یہاں لوگوں نے بڑے اشتیاق سے آگے بڑھ کر حضور سے مصافحہ کیا اور اپنے حالات بیان کئے حضور نے فرمایا کہ اگر حکومت مہاجرین کو اس جگہ آباد کرنا مناسب خیال نہیں کرتی تو پھر ان کے لئے آج سے بہت عرصہ پہلے ہی کسی متبادل جگہ کا انتظام کر دیا جاتا تا کہ یہ پکے مکانوں میں آرام سے زندگی بسر کر سکتے۔حضور کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہاں کے لوگ اکثر مقروض ہیں اور سود خور پٹھانوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے روپیہ قرض لے کر ہی اپنا کاروبار پھیلایا تھا۔حضور نے فرمایا کہ ان لوگوں کو کو ا پر بیٹو طریق کے مطابق کام کرنا چاہئے۔اگر انہیں کو اپر بیٹوطریقوں سے آگاہ کیا جائے تو ان کے لئے بہت سہولت پیدا ہو سکتی ہے۔اس کے بعد حضور نے وارث روڈ پہنچ کر نئے تعمیر شدہ مکانات دیکھے وہاں بھی لوگ استقبال کے لئے نہایت تپاک سے آگے بڑھے اور خدام کے جذ بہ خدمت خلق کو سراہتے ہوئے ممنونیت کا اظہار کیا۔وہاں ارد گرد گندا پانی کھڑا تھا حضور نے فرمایا کہ اس کی صفائی کا بندوبست ہونا چاہئے۔مکرم قائد صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہاں کارپوریشن کی معرفت ڈی ڈی ٹی چھٹڑ کوا دی گئی تھی۔اس پر حضور نے مزید فرمایا کہ ایک آدھ مرتبہ دوائیں چھڑکنا بے فائدہ ہے جب تک صفائی کا مستقل انتظام نہ ہو اس وقت تک ان کی تکلیف رفع نہیں ہو سکتی چنانچہ مکرم امیر صاحب نے وہاں کے باشندوں سے پوچھا کہ یہاں کمیٹی والے صفائی کے لئے آتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ اکثر آ کر دوائیں چھڑکتے