سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 250 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 250

227 سو مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ معتد بہ کام ہو چکا ہے۔اور فی الواقعہ جو کام بھی ہوا ہے وہ مفید اور اچھا ہے۔(الفضل ۲ نومبر ۱۹۵۴ء صفحه ۱) حضور نے مزید فرمایا کہ کم از کم دو جگہیں میں نے ایسی بھی مہاجرین کی آبادکاری دیکھیں جہاں مہاجرین چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں اور ان کے لئے ابھی تک مستقل رہائش کا بندوبست نہیں ہوا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حکومت ان جگہوں کو قیمتی بجھتی ہے اور وہ یہ نہیں چاہتی کہ وہاں مہاجرین کے مکانات تعمیر کئے جائیں۔اگر یہ صورت ہے تو ان کے لئے بہت جلد متبادل جگہ کا انتظام ہونا چاہئے تا کہ وہ با قاعدہ مکانوں میں آرام کی زندگی بسر کر سکیں سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا : - ان لوگوں کو جھونپڑیوں میں پڑے ہوئے سات سال کا عرصہ ہو چکا ہے اگر انہوں نے ایسی جگہوں پر جھونپڑیاں ڈال لی تھیں جہاں حکومت کی نگاہ میں جھونپڑیاں نہیں بنی چاہئیں تو پھر ان کے متعلق آج سے بہت عرصہ پہلے یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے تھا کہ ان کو کہاں آباد کیا جائے گا۔لوگوں کو جب کسی ایک جگہ رہتے ہوئے خواہ وہ کتنی ہی غیر موزوں کیوں نہ ہو کافی عرصہ ہو جاتا ہے تو پھر اس جگہ سے انہیں ایک وابستگی ہو جاتی ہے وہ وہاں اپنا کاروبار پھیلا لیتے ہیں اور پھر اس جگہ کو چھوڑ نا نہیں چاہتے پس ان کے لئے مستقل رہائش کا جلد از جلد انتظام ہونا چاہئے جتنا زیادہ عرصہ گذرتا جائے گا لوگوں کو جگہوں کو خیر باد کہنے میں اتنی ہی زیادہ دقت ہوگی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بارش زدہ علاقوں کے دورے پر مکرم جناب امیر صاحب جماعت احمدیہ لا ہور ، مکرم قائد صاحب مجلس مقامی اور بعض دیگر احباب کی معیت میں صبح 4 بجے کے بعد رتن باغ سے روانہ ہوئے۔روانہ ہوتے وقت قائد صاحب نے حضور کی خدمت میں لاہور شہر اور اس کے نواحی علاقوں کا ایک وسیع نقشہ پیش کیا جس میں ان مقامات کی نشاندہی کی ہوئی تھی جن میں مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور وہاں کے پریشان حال باشندوں کو گذشتہ ایک ماہ سے ہر ممکن امداد بہم پہنچا رہی ہے۔نقشہ میں وہ مقامات خاص طور پر نمایاں کر کے دکھائے گئے تھے جن میں لاہور اور ربوہ کے دوصد سے زائد خدام نے ۷۵ سے زائد گرے ہوئے مکانوں کو از سر نو تعمیر کر کے قریباً ایک ہزار افراد کی رہائش کا بندو بست کیا ہے۔نقشے پر حضور نے وہ راستہ بھی ملاحظہ فرمایا جس سے گذر کر حضور کو متعدد علاقوں کا دورہ فرمانا تھا۔حضور جس بستی میں بھی پہنچے مکرم امیر صاحب مقامی اور مکرم قائد صاحب حضور کو مختصرا مطلع فرماتے کہ یہاں بارش نے کیا تباہی مچائی اور خدام نے یہاں کس کس طریق پر ریلیف کا کام سرانجام دیا۔