سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 203
199 ہوتا ہے :- ” دراصل غصہ دیوانگی ہوتی ہے اور عارضی دیوانگی ایک یا دومنٹ کے لئے ہوتی ہے وہ جب گزر جائیں تو حالت بدل جاتی ہے۔کئی قتل ایسے ہوتے ہیں کہ اگر قاتل کا اس وقت جب کہ وہ غصہ میں تھا ایک منٹ کے لئے ہاتھ پکڑ لیا جاتا تو وہ قتل نہ کرتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ دوسرے ہی منٹ میں اس سے چمٹ کر محبت کرنے لگتا جسے قتل کرنے لگا تھا اور معافی مانگتا کہ میں سخت غلطی کرنے لگا تھا۔تو غصہ آنا جذبہ ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو محض ازالہ شر کے لئے رکھا ہے تا شرارت کو اس سے روکا جا سکے ورنہ اصل چیز خدا تعالیٰ نے محبت پیدا کی ہے۔اگر غصہ کے وقت انسان ایسی جگہ سے ہٹ جائے اور کہے میں اس بات کا فیصلہ پھر کسی وقت کر لوں گا یا جیسے رسول کریم صلی اللہ والیم نے فرمایا ہے اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور پھر پانی پئے تو اس طرح سینکڑوں ہزاروں لڑائیاں دور ہو سکتی ہیں۔مگر میں کہتا ہوں یہ بھی ادنی بات ہے جس مومن کو غصہ روکنے کے لئے بیٹھنے یا لیٹنے کی ضرورت پڑے وہ سمجھ لے کہ وہ ابھی کامل مومن نہیں ہے۔مومن کو محسوس کرنا چاہئے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے محبت اور صلح کے لئے پیدا کیا ہے نہ لڑنے جھگڑنے کیلئے اور جب خدا تعالیٰ نے انسان کو محبت کیلئے پیدا کیا ہے تو وہ اسی سے محبت کرے گا جو دوسروں سے محبت کرنے والا ہوگا اور جولڑتا ہے وہ اس کا محبوب نہیں بن سکتا حضرت مسیح موعود نے ہمیں ساری دنیا سے محبت کرنے کی۔تاکید کی ہے اگر ہم اپنے روحانی بھائی سے محبت نہیں کرتے تو غیروں سے کیا کریں گے اور جب تک غیروں سے محبت نہ کریں گے اس وقت تک کامیاب بھی نہ ہوں گے ( خطبہ جمعہ ۲۰۔اپریل ۱۹۲۸ء الفضل ۲۷۔اپریل ۱۹۲۸ء صفحہ ۷۶ ) اخوت و محبت نہایت قیمتی جو ہر ہے اس کا اندازہ حضور کے مندرجہ ذیل ارشاد سے وہ صفائی جو اسلام چاہتا ہے یہ ہے کہ گند نظر نہ آئے اور صحت خراب نہ ہو پھر بعض لوگ ایسے صفائی پسند ہوتے ہیں کہ وہ مصافحہ بھی کسی سے نہیں کرتے کہ اس طرح کیڑے لگ جاتے ہیں یہ بھی صفائی نہیں بلکہ جنون ہے۔ایسی صفائی جو