سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 202 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 202

198 معلوم ہوتا ہے ان کے دل خون ہو گئے ہیں اور ان کے لئے عرصہ حیات تنگ ہو گیا ہے پس باوجود اس کے کہ عدالت عالیہ کے فیصلہ کے متعلق کچھ لکھنا ایک نازک سوال ہے اور قانون کا کوئی ماہر ہی اس مشکل راستہ کو بخریت طے کر سکتا ہے میں مجبور ہو گیا ہوں کہ اس بارہ میں اپنے خیالات کو ظاہر کروں وَمَا تَوْفِيقِی إِلَّا باللہ۔سب سے پہلے تو میں یہ کہتا ہوں کہ اے بھائیو! میں تمہاری ہمدردی کا شکر گزار ہوں کہ تم نے میرے زخمی دل پر پھا یہ رکھنے کی کوشش کی اور میرے غم میں شریک ہوئے اور میرے بوجھ کے اُٹھانے کے لئے اپنے کندھے پیش کر دیئے۔خدا کی تم پر رحمتیں ہوں وہ تمہارے دل کے زخموں کو مندمل کرے اور تمہارے دکھوں کا بوجھ ہلکا کرے کہ تم نے اس کے ایک کمزور بندے پر رحم کیا اور اس کے غم نے تمہارے دلوں کو پریشان کر دیا۔۔اگر میاں عزیز احمد بے قابو نہ ہو جاتے اور اگر ان سے اس فعل کا ارتکاب نہ ہوتا جو ہوا تو ججوں کو میرے متعلق اچھے یا بُرے خیالات کے اظہار کا موقع ہی کب مل سکتا تھا ان کو ان ریمارکس کے کہنے کا موقع تو خود آپ لوگوں میں سے ہی ایک فرد نے دیا۔جب میں اس نقطہ نگاہ سے اس معاملہ کو دیکھتا ہوں تو میرے دل سے بے اختیار یہ آواز آتی ہے کہ محمود جس قوم کی خدمت تو نے بچپن میں اپنے ذمہ لی، جس کی خدمت جوانی میں تو نے کی ، جب تیرے بال سفید ہو گئے ، جب تیری رگوں کا خون ٹھنڈا ہونے کو آیا تو ان میں سے بعض کی وجہ سے تجھ پر اس فعل کا الزام لگایا گیا جس فعل کو دنیا سے مٹانے کیلئے تیرا بچپن اور تیری جوانی خرچ ہوئے تھے۔جب ہم میں سے بعض نے اپنے خدا پر بدظنی کی اور خیال کیا کہ وہ جائز راستہ سے ہماری مدد نہیں کر سکتا اور اس کا بتایا ہوا طریق ہمیں کامیاب نہیں بنا سکتا تو بتا کہ اگر دنیا کے لوگ تجھ پر اور تیرے دوستوں پر بدظنی کریں تو اس میں ان کا کیا قصور فاروق ۱۴۔جنوری ۱۹۳۸ء صفحه ۲) اس درد بھرے بیان سے حضور کی امن پسندی اور مفسدہ پردازی سے نفرت بخوبی عیاں ہوتی ہے۔غصہ سے بچنے اور اپنے بھائیوں بلکہ غیروں سے بھی محبت و پیار کا سلوک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : -