سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 204 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 204

200 اخلاق کو تباہ کر دے جائز نہیں۔بعض لوگ کسی کے ساتھ برتن میں کھانا نہیں کھاتے یہ بھی ان کے نزدیک صفائی ہے مگر ایسی صفائی سے اسلام منع کرتا ہے۔جو صفائی اخوت اور محبت میں روک ہو وہ بے دینی ہے پس ہر کام کے وقت اس کی خوبی اور برائی کا موازنہ کر کے دیکھنا چاہئے مصافحہ کرنے سے اگر فرض کرو کوئی بیمار بھی ہو جائے یا سال میں آٹھ دس آدمی اس طرح مر بھی جائیں تو اس محبت و پیار کے مقابلہ میں جو اس سے پیدا ہوتا ہے اور ان دوستیوں کے مقابلہ میں جو اس سے قائم ہوتی ہیں اس کی حقیقت ہی کیا ہے۔اگر محبت کے ذریعہ لاکھوں آدمی بچیں اور آٹھ دس مر بھی جائیں تو کیا ہے۔دیکھنا تو یہ چاہئے کہ نقصان زیادہ ہے یا فائدہ اور جو چیز زیادہ ہو اس کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ ہر بڑی چیز کیلئے چھوٹی قربانی ہوتی ہے پس ایسی صفائی جس سے تعیش اور وقت کا ضیاع ہو یا جو محبت میں روک ہو اسے مٹانا چاہیئے الفضل ۱۷۔مارچ ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۰۹) انتظامی معاملات میں کسی قسم کی رعایت یا لحاظ کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا پوری غیر جانبداری سے تحقیق کے بعد انصاف سے کام لیتے ہوئے فیصلہ فرماتے۔حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب حضور کے خسر تھے اس رشتہ داری کے علاوہ جماعتی خدمات اور اپنے مقام کی وجہ سے بہت احترام کے مقام پر تھے مگر ایک غریب احمدی نے مسجد مبارک میں ان کے خلاف کوئی شکایت کی تو حضور کے فیصلہ کے مطابق حضرت خلیفہ صاحب نے اس غریب آدمی سے معافی مانگی اور اس کی دلجوئی بھی کی۔( روایت حضرت مولوی شیر علی صاحب) مجلس شوریٰ میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی ایک تجویز کے خلاف فیصلہ ہوا اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- میرے نزدیک پہلے بھی جب فیصلہ (جامعہ احمدیہ میں کلرک رکھنے کے متعلق ناقل ) خلاف ہوا تھا اس کی ضرورت تھی مگر اس وقت معاملہ کی صورت ایسا رنگ اختیار کر گئی تھی جس میں میں نے دخل دینا مناسب نہ سمجھا۔ایک تو یہ کہ ناصر احمد کا انجمن سے جو سوال وجواب ہوا تھا وہ ایسا مؤدبانہ نہیں تھا جیسا کہ ایک ماتحت کا اپنے افسر کے مقابلہ میں ہونا چاہئے۔دوسرے صدرانجمن احمدیہ کے ممبروں کی آراء بھی شاید اس وجہ سے کہ مرزا ناصر احمد نے صحیح طریق اختیار نہیں کیا تھا سختی سے اس