سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 158 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 158

154 نیز آپ نے فرمایا: - میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو لوگ پڑھے ہوئے نہیں وہ علم حاصل کرنے کی طرف توجہ کریں اور جن کو خدا تعالیٰ نے علم دیا ہوا ہے وہ دوسروں کو پڑھا ئیں۔اس وقت علم حاصل کرنے کا خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایک نہایت ہی اعلیٰ موقع عطا کیا ہوا ہے اگر کسی شخص نے اپنی غفلت سے اس موقع کو کھو دیا تو اس کی بدقسمتی میں کوئی شبہ نہیں ہوگا۔دو یہ دن بڑی برکتوں اور رحمتوں کے دن ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے طفیل ہماری جماعت کو حاصل ہیں۔۔۔۔۔۔صرف ہماری جماعت ہی ہے جسے مائی جانی، وقتی وطنی اور علمی قربانیوں کے پے در پے مواقع ملتے چلے جاتے ہیں اور دراصل یہی وہ خزانے ہیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود خزانے لٹائے گا مگر لوگ قبول نہیں کریں گے۔“ خطبہ الفضل ۳۰۔جون ۱۹۳۹ء صفحه ۴ ) غیر معمولی حالات میں قادیان سے نکلنا پڑا تو اس وقت بھی جماعت کی علمی ترقی و بہتری کی ضرورت واہمیت آپ کے سامنے تھی۔چنانچہ آپ نے جماعت کو نہایت مؤثر رنگ میں تاکید کرتے ہونے فرمایا:- اگر قادیان میں کوئی حادثہ ہو جائے تو پہلا فرض جماعت کا یہ ہے کہ شیخوپورہ یا سیالکوٹ میں ریل کے قریب نہایت سستی زمین لے کر ایک مرکزی گاؤں بسائے۔مگر قادیان والی غلطی نہیں کہ کوٹھیوں پر زور ہو سادہ عمارات ہوں۔فوراً ہی کالج اور سکول اور مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کی تعلیم کو جاری کیا جائے۔دینیات کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے پر ہمیشہ زور ہو علماء بڑے سے بڑے پیدا کرتے رہنے کی کوشش کی جائے۔“ (خاکسار مرزا محمود احمد ۳۰۔جولائی ۱۹۴۸ء) جماعت کے تمام لڑکوں کو لازمی تعلیم کی سکیم پیش کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- اسی طرح نظارت تعلیم کو چاہئے کہ وہ جماعتوں میں اپنے انسپکٹر بھیج کر جائزہ لے کہ آیا ہر احمدی لڑکا پڑھ رہا ہے یا نہیں۔جو احمدی اپنی اولا دکو نہ پڑھا رہا