سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 157
153 استاد کا کام نہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے کورس کو پورا کرے بلکہ اس کا یہ بھی کام ہے کہ وہ زائد سٹڈی کروائے۔کوئی طالب علم صحیح طور پر تعلیم حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس کا مطالعہ اس قدر وسیع نہ ہو کہ وہ اگر ایک کتاب مدرسہ کی پڑھتا ہو تو دس کتا بیں باہر کی پڑھتا ہو۔باہر کا علم ہی اصل علم ہوتا ہے۔استاد کا پڑھایا ہوا علم صرف علم کے حصول کے لئے مد ہوتا ہے ،سہارا ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعہ وہ سارے علوم پر حاوی ہو سکے۔دنیا میں کوئی ڈاکٹر ، ڈاکٹر نہیں بن سکتا اگر وہ اتنی ہی کتابیں پڑھنے پر اکتفا کرے جتنی اس کا لج میں پڑھائی جاتی ہیں، دنیا میں کوئی وکیل، وکیل نہیں بن سکتا اگر وہ صرف اتنی کتابوں پر ہی انحصار ر کھے جتنی اسے کالج میں پڑھائی جاتی ہیں، دنیا میں کوئی مبلغ مبلغ نہیں بن سکتا اگر وہ صرف انہیں کتابوں تک اپنے علم کو محد و در کھے جو اسے مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہیں۔وہی ڈاکٹر وہی وکیل اور وہی مبلغ کامیاب ہو سکتا ہے جو رات اور دن اپنے فن کی کتابوں کا مطالعہ رکھتا ہے اور ہمیشہ اپنے علم کو بڑھاتا رہتا ہے پس جب تک ریسرچ ورک کے طور پر نئی نئی کتابوں کا مطالعہ نہ رکھا جائے اس وقت تک لڑکوں کی تعلیمی حالت ترقی نہیں کر سکتی۔( الفضل یکم جون ۱۹۵۲، صفحه ۵) علم کی اہمیت ذہن نشین کرواتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- علم بذات خود ایک نہایت قیمتی اور مفید چیز ہے پھر جو شخص علم والا ہوگا وہ اگر فوج میں جائے گا تو اعلیٰ جرنیل بن جائے گا ، طب سیکھے گا تو اعلیٰ درجہ کا طبیب حاذق بن جائے گا ، قانون سیکھے گا تو اعلیٰ درجہ کا بیرسٹر بن جائے گا گویا علم اسے ہر میدان میں ترقی بخش دے گا۔تو روپیہ سے کسی چیز کی قیمت لگانا نہایت ادنیٰ اور گرا ہوا تخیل ہے۔علم اپنی ذات میں ایک نہایت قیمتی چیز ہے خواہ اس کے بعد کسی کو روپیہ حاصل ہو یا نہ ہو۔دنیا میں جس قد را دنئی اقوام ہیں یہ کیوں ادنی اقوام کہلاتی ہیں اسی لئے کہ ان میں علم نہیں اگر وہ بھی علوم سیکھ لیں تو اچھوت ، ہریجن اور چوہڑے، چمار کے الفاظ ہی متروک ہو جائیں اور ان کے ماضی پر ایسا پردہ پڑ جائے کہ کسی کو معلوم تک نہ ہو کہ وہ بھی کبھی چوہڑے چمار رہ چکے ہیں۔الفضل ۳۰۔جون ۱۹۳۹ ء صفحہ ۴ )