سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 159 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 159

155 ہوا سے مجبور کیا جائے کہ وہ ضرور پڑھائے اگر ضرورت ہو تو کتا ہیں خرید کر دینے یا فیس کا انتظام بھی کیا جاسکتا ہے۔میرے نزدیک اگر ایسا کیا جائے تو ہم دیہات میں پرائمری سکول قائم کرنے کے اخراجات سے بھی بچ جائیں گے اور ایسے سکولوں کی نسبت کہیں زیادہ فائدہ حاصل کر لیں گے۔“ الفضل ۵۔جنوری ۱۹۵۶ء صفحه ۴ ) حصول تعلیم کے دوران جو مشکلات اور خرابیاں پیش آسکتی ہیں وہ بھی آپ کی باریک بین نگاہ اور نکتہ رس طبیعت سے مخفی نہ تھیں۔اس سلسلہ میں آپ کی احتیاط اور پیش بندی کا مندرجہ ذیل بیان سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔وو دوستوں نے مجھے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ میں کوئی ایسی سکیم تیار کروں جس کے نتیجہ میں جماعت کے بچے اور بچیاں حصول تعلیم میں ترقی کریں لیکن میں نے عمداً ایسی سکیم کے اعلان کرنے سے گریز کیا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ اگر جماعت کو اس مقام پر لایا گیا تو بجائے دین میں ترقی کے تنزل کی صورت ہوگی کیونکہ ہمارے نوجوان آریوں، سکھوں یا عیسائیوں کے کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے تو بجائے دینی حالت کی اصلاح کے ان کی دینی حالت خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا اپنا کالج کھل گیا ہے۔جہاں طلباء کو ہر قسم کی سہولت میسر آ سکتی ہے اور ان کی دینی حالت کی بھی اصلاح ہو سکتی ہے۔۔۔۔اگر تمام طالب علم قادیان میں کالج کی تعلیم کے لئے نہ آسکیں تو لاہور میں ٹھہرنے والوں کے لئے احمد یہ ہوٹل کو بڑھا یا جاسکتا ہے۔میں صدر انجمن کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر نظارت تعلیم و تربیت کو دوانسپکٹر دے جو سارے پنجاب کا دورہ کریں۔۔۔۔۔۔یہ انسپکٹر ہر ایک گاؤں اور ہر ایک شہر میں جائیں اور لسٹیں تیار کریں کہ ہر جماعت میں کتنے لڑکے ہیں، ان کی عمریں کیا ہیں، ان میں کتنے پڑھتے ہیں اور کتے نہیں پڑھتے جو نہیں پڑھتے ان کے والدین کو تحریک کی جائے کہ وہ انہیں تعلیم دلوائیں اور ہائی سکولوں سے پاس ہونے والے لڑکوں میں سے جن کے والدین استطاعت رکھتے ہوں ان کو تحریک کی جائے