سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 156 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 156

152 سکے میں خدام الاحمدیہ کے سامنے یہ بات رکھتا ہوں کہ وہ کسی ایسی سکیم پر غور کریں جس سے تین ماہ کے اندر اندر تمام مردوں کو تعلیم دینے کا مقصد پورا ہو۔قادیان میں کوئی ایک مرد اور کوئی عورت بھی ان پڑھ نظر نہ آئے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں عورتوں کی ذمہ داری ان پر نہیں بلکہ لجنہ پر ہے۔ان کے ذمہ مردوں اور دس سال سے زیادہ عمر کے بچوں کی تعلیم ہے اور وہ کوشش کریں کہ یکم نومبر کو کوئی مرد اور دس سال کی عمر کا بچہ ان پڑھ نہر ہے۔یکم نومبر کو ہم قادیان کا عام امتحان لیں گے اور میں خود اس کی نگرانی کروں گا۔اور ان کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہاں کوئی ان پڑھ باقی نہیں۔ممکن ہے بعض آدمی اس وقت میں پڑھنا نہ سیکھ سکیں اور ایسے لوگوں سے ہم درخواست کریں گے کہ وہ پندرہ ہیں روز یا مہینہ اپنا کام چھوڑ کر پڑھائی میں لگے رہیں اور پڑھائی کے مقابلہ میں کوئی بڑی قربانی نہیں بلکہ بہت فائدہ بخش ہے۔اس طرح کم از کم معیار تعلیم کے متعلق فرمایا: - (الفضل ۲۹۔اپریل ۱۹۳۹ ، صفحہ ۲) ہر احمدی مرد جو دس سال سے اوپر ہے اسے ایک تو قرآن پڑھنا آتا ہو دوسرے نماز با ترجمہ آتی ہو تیسرے وہ اردو پڑھ اور لکھ سکتا ہو اور چوتھے سو تک کے ہند سے اسے آتے ہوں۔“ (الفضل ۴ مئی ۱۹۳۹ ء صفحه ۱) علم کی ترقی اور ذہانت و عقل سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔ذہانت اور عقل سے کام لینا انتہائی قومی ضرورتوں میں سے ہے اس لئے ذہانت کو تیز کریں اور جب ذہانت پیدا ہو جائے اور عقل تیز ہو تو ہزار ہانئے رستے نکل سکتے ہیں۔دنیا میں کئی قومیں ہیں اور سب کے ایک ہی جیسے ہاتھ اور منہ اور آنکھیں وغیرہ ہیں مگر بعض ان میں سے حاکم ہیں اور بعض محکوم۔حاکم وہی ہیں جو ذہانت سے کام لیتی ہیں۔شدت ذہانت ایک ایسی طاقت ہے جو قوم کو غالب کر دیتی ہے اور جب اس کے ساتھ قوت عملیہ بھی شامل ہو جائے تو ایسی قوم کا دنیا کی حاکم بن جانا یقینی ہو جاتا ہے۔“ (الفضل ۲۴ مئی ۱۹۳۹ ، صفحه ۵) مطالعہ کی اہمیت سمجھاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔