سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 4 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 4

4 جماعت کو اس رنگ میں بھی فائدہ پہنچا کہ نوجوانوں میں فوجی تربیت کی طرف رغبت پیدا ہوئی اور ہنگامی حالات میں دفاعی ضروریات کا بہت اچھا انتظام ہو جاتا رہا اور آپ کی وصبی قائدانہ صلاحیتوں کو بھی جلا حاصل ہوتی رہی۔آپ کے مشاغل میں عطر سازی کا ذکر بھی ملتا ہے۔آپ کی قوت شامہ بھی دوسری جنوں کی طرح بہت تیز تھی بعض دفعہ آپ دودھ کا ایک گھونٹ پی کر یا سونگھ کر یہ بتا دیا کرتے تھے کہ جس گائے یا بھینس کا یہ دودھ ہے اس نے کیا چارہ کھایا تھا۔عطر سازی کو بطور ہابی اور مشغلہ اپنانے کی طرف توجہ اس وجہ سے بھی پیدا ہوئی کہ تیز خوشبو والے عام بازاری عطر آپ کو سخت نا پسند تھے۔عام عطر کے استعمال سے فوری طور پر سر درد اور نزلہ زکام کی تکلیف سے دوچار ہو جاتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے بارہا احباب کو اس بات سے روکا کہ وہ آپ کی جائے نماز پر عطر لگا ئیں۔عطر سازی کے متعلق آپ نے بہت مطالعہ کیا بہت تجربات کئے۔اس فن کے ماہروں سے گفتگو فرمائی اور پھر اپنی طبعی نفاست کی وجہ سے عطر کی نہایت عمدہ قسمیں دریافت فرما ئیں۔ان تجربات سے آپ کے بعض اعزہ واقرباء ہی نہیں احباب جماعت بھی فائدہ اٹھاتے تھے جنہیں یہ بیش قیمت عطر تحفہ میں ملتے تھے۔حضور باغبانی اور زراعت کا بھی شوق رکھتے تھے اور اس میں وسیع مطالعہ اور تجربات سے ترقی اور بہتری کے راستے نکالتے رہتے تھے۔آپ کی توجہ اور دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے ساتھ کام کرنے والوں کو یہ خیال رہتا تھا کہ آپ کو ہر درخت کے پھل کی پہچان ہے اور اس کی مقدار کا مکمل اندازہ ہے۔سندھ کی زمینوں میں آپ کی نگرانی میں لگائے گئے باغات جماعت کی آمدنی میں اضافہ کا موجب بنے۔( قادیان کا آموں کا باغ جو فارم کے نام سے مشہور تھا تقسیم برصغیر سے قبل ہندوستان بھر بنے۔کا سے مشہورتھا میں مشہور تھا اور متعد دانعامی مقابلوں میں انعام کا حقدار قرار پایا۔) آپ کی محنت کی عادت بھی غیر معمولی تھی، نیند بہت کم تھی ، آپ کے ساتھ کام کرنے والوں کو بھی مستعدی اور چوکسی سے ہر وقت کام کرنے کے لئے تیار رہنا پڑتا تھا۔آپ کسی کے سپرد کوئی کام کرتے تو اس کے متعلق واضح ہدایات دیتے تفصیلی راہنمائی فرماتے اور فوری طور پر رپورٹ دینے کی تاکید فرماتے۔آپ ایک وقت میں پوری توجہ سے کئی کام کر سکتے تھے۔لمبے سفر کے دوران خطوں کے جواب لکھواتے تھے ان خطوں میں مخالفوں کے اعتراضات بھی ہوتے تھے، فقہی مسائل بھی ہوتے تھے لڑائی جھگڑوں کی اُلجھنیں بھی ہوتی تھیں معاشرتی اور سیاسی مسائل بھی ہوتے تھے۔آپ کے ایک ڈرائیور کے بیان کے مطابق اس سارے کام کے دوران سفر کے ساتھیوں کی دلجوئی کی باتیں بھی ہوتی