سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 3 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 3

3 میں شامل تھا اور آپ کے اس زمانے کے اکثر خطبات سادہ زندگی کے فوائد اور مسر فانہ پر تعیش زندگی کے نقصانات کے موضوع پر ہوتے تھے۔آپ کے مصروف اوقات کا اکثر حصہ پڑھنے لکھنے میں صرف ہوتا تھا۔مطالعہ بہت تیزی سے فرماتے ، مطلب کی بات فوری طور پر اخذ کرنے کا غیر معمولی ملکہ تھا۔آپ کی لائبریری کی سینکڑوں کتابوں پر آپ کے قلم کے نشانات اور نوٹ یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی علم کے ماہر سے قرآنی بصیرت کی روشنی میں بات کر کے اسے دین حق کی صداقت و عظمت کا قائل کر لیتے تھے۔ابتدائی زمانہ میں زیر مطالعہ کتب کا ڈھیر چار پائی کے پاس لگ جاتا۔کبھی یہ بھی ہوتا کہ آپ اپنی لائبریری سے کوئی کتاب منگواتے تو ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتے کہ یہ کتاب لائبریری کے کس خانہ میں کس جگہ رکھی ہوئی ہے۔کبھی یہ بھی بتا دیتے کہ یہ حوالہ کتاب کے کس حصہ میں صفحہ کی کس جگہ پر ملے گا۔آپ کی ابتدائی علمی وتحقیقی کتب و تقاریر کی تیاری کسی قیمتی آرام دہ فرنیچر اور آراستہ کمرے میں بیٹھ کر نہیں بلکہ نماز پڑھنے والی چٹائی یا سونے کے بستر پر بیٹھ کر کی گئی۔دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ایک جان نثار فدائی ، لاکھوں کی جماعت کے امام کے دفتر کا فرنیچر ایک چٹائی تھی۔اسی چٹائی پر سارے علمی اور انتظامی کام سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ آپ کے ملاقاتی بھی آپ کے برابر بیٹھ کر اپنے خانگی مسائل کا حل، دینی مسائل میں رہنمائی علمی و عملی مشکلات کے ازالہ بلکہ قومی وملی مسائل پر آپ کی ماہرانہ رائے سے مستفید ہوتے اور سکون واطمینان حاصل کرتے۔بعد میں ایسا زمانہ بھی آیا کہ دفتر اور میز گری کی سہولت میسر آ گئی مگر اُس وقت بھی فرنیچر کے انتخاب میں اس کی مضبوطی اور عمدگی کو اس کی خوبصورتی اور نفاست پر ترجیح دی جاتی تھی۔آپ بچپن میں کئی کھیلیں کھیلتے رہے مگر جن کھیلوں سے آپ کو ہمیشہ دلچسپی رہی وہ تیرا کی ،نشانہ بازی اور گھوڑ سواری تھی۔جوانی میں تو آپ مشاق تیرا کوں سے مقابلہ کر کے بازی لے جایا کرتے تھے۔بچپن کی کھیلوں میں کشتی رانی کا بھی ذکر ملتا ہے مگر جماعتی مصروفیات کے باعث زیادہ وقت نہ ملنے کی وجہ سے اس طرف توجہ کم ہوتی گئی۔آپ کا نشانہ بہترین تھا، پہلے غلیل پھر ہوائی بندوق اور شاٹ گن وغیرہ بھی زیر استعمال رہیں۔ہوائی بندوق سے شکار کی رغبت اس لئے بھی زیادہ ہوگی کہ حضرت مسیح موعود دماغی کام کرنے والے کے لئے پرندوں کی یخنی مفید سمجھتے تھے۔نشانہ بازی کی مشق کے لئے درخت پر بیٹھی ہوئی بھڑوں کا ایک ایک کر کے نشانہ لیتے اسی طرح دیا سلائی کی ڈبیہ بھی ہدف بنتی۔اچھی قسم کی بندوق رکھنے اور اس کی صفائی وغیرہ کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔آپ کے اس شوق سے