سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 130
130 کہ منافقوں نے انہیں دھوکا دیا اور وہ ان کے دھوکا میں آگئے۔ورنہ وہ مخلص ہیں میں ان سے ناراض نہیں ہوں اور منافقوں سے بھی ناراض نہیں ہوں۔کیونکہ ہمارا کام اصلاح کرنا ہے۔اگر ناراض ہوں تو پھر اصلاح کس طرح کریں“ دوستوں کو نصیحت رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ ، صفحه ۵۰٬۴۹) میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ بنی نوع سے محبت کرو۔یاد رکھو کہ عداوت میٹھی چیز نہیں محبت میٹھی چیز ہے تم دیکھو دونوں میں سے کونسی چیز آرام دہ ہے۔آیا محبت آرام دہ ہے یا غصہ۔تم غور کرو کہ تم جس وقت غصہ کی حالت میں ہوتے ہو اس وقت آرام کی حالت میں ہوتے ہو یا جس وقت محبت کے جذبات و خیالات میں۔جب تم غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ امن خدا کی طرف سے آتا ہے۔غضب اس وقت جائز ہے جب خدا کے غضب کے مقابلہ میں آجائے ورنہ محبت ہی ضروری ہے۔جو لوگ حُسنِ سلوک اور محبت کے جذبات چھوڑ دیتے ہیں ان کے لئے یہاں ہی جہنم ہے“ (الفضل ۱۱۔دسمبر ۱۹۲۲ ء صفحہ ۸) دوپس میں نصیحت کرتا ہوں کہ دوسروں سے ملنساری پیدا کرو۔اخلاق فاضلہ یہ نہیں ہیں کہ جو تم سے ملتا ہے تم اس سے نرمی کا سلوک کرو بلکہ اخلاق فاضلہ کا منشاء یہ ہے کہ تم لوگوں کے پاس جاؤ ان سے ملو اور ان سے ہمددری اور عمدہ برتاؤ کرد۔(الفضل ۱۶۔نومبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۷ ) ایمانی غیرت حضور کی سیرت کا یہ درخشاں پہلو ہمارے سامنے آچکا ہے کہ آپ نے کبھی کسی کو اپنا دشمن نہیں سمجھا اور وہ لوگ جو حضور یا جماعت کے دشمن تھے ان کے لئے بھی دعائیں کرتے رہے اور حسب موقع امداد بھی مگر اس پہلو کا دوسرا روشن رخ یہ بھی ہے کہ آپ نے کبھی خوشامد یا بے غیرتی کا طریق اختیار نہ کیا بلکہ جب بھی کوئی ایسا موقع آیا جہاں جماعت کی تو ہین یا بے عزتی کا کوئی پہلو نکلتا ہو تو آپ خم ٹھونک کر مقابلہ پر آ جاتے تھے اور اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کرتے تھے کہ مقابلہ پر حکومت ہے یا اکثریت ہے یا کوئی با اثر شخصیت ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔