سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 129 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 129

129 وہ غرور و تکبر کی وجہ سے شیطانی وساوس کا شکار ہو کر حضور کی مخالفت اور دشمنی پر اتر آتے۔ان مخالفوں کی مخالفتوں اور اعتراضات میں سے وہ باتیں جن کا حضور کی ذات سے تعلق تھا اس کے متعلق حضور کا طریق مبارک تھا کہ آپ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً “ پر عمل کرتے ہوئے ان امور کو حوالہ بخدا فرماتے اور ان پر اپنی اور جماعت کی طاقت، وقت کو ضائع کرنے کی ضرورت نہ سمجھتے۔البتہ ایسے تمام معاملات کو جن کا جماعت کی عمومی اصلاح و بہتری سے تعلق ہوتا اپنی مجالس میں بیان فرماتے ان کا تفصیلی جائزہ لیتے اور مدلل شافی جواب مرحمت فرماتے۔وہ لوگ جو دشمنی و عداوت میں شائستگی ، متانت ہی نہیں عام انسانیت کے تقاضوں کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے ان کے الزامات کے تجزیہ وتفصیل کی اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ خدا تعالی کی فعلی شہادت ان امور کا فیصلہ کر چکی ہے۔وہ لوگ جو حضور کو غلط کا رقرار دے کر بزعم خویش اصلاح و بہتری کے لئے اُٹھے تھے وہ خائب و خاسر ہو کر نَسُيًا مُنْسِيًّا کے تاریک غاروں میں غائب ہو چکے ہیں اور ملت کا فدائی، بہی خواہ قوم اور خادم قرآن ہر لحاظ سے مؤید و منصور من اللہ ہوا اور آپ کا ہر پروگرام و منصو بہ اور آپ کی جاری کردہ تحریکات اور نیکیوں کے صدقہ جاریہ کے دائرہ کی وسعت دن بدن ترقی پذیر ہے اور آپ کا ذکرِ خیر (لسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا ) بھی ہمیشہ جاری رہتا ہے اور جاری رہے گا۔جماعت کے افراد سے غلطیاں سرزد ہونا تو کوئی غیر طبعی اور غیر معمولی امر نہیں ہے نسیان و خطا اور بھول چوک انسان کا لازمہ ہے۔ایسے مواقع پر حضور حسب موقع اور حسب حال کوئی ذریعہ اصلاح تجویز فرمایا کرتے تھے۔عام معمول کے ذرائع اصلاح کے علاوہ آپ اپنے ایسے خدام کو استغفار ذکر الہی اور پہلے سے زیادہ عبادات بجالانے کی تلقین بھی فرمایا کرتے تھے۔آپ کے ذریعہ اصلاح میں بظاہر سختی کا رنگ اپنے خدا دا د منصب کی وجہ سے محض انتظامی مجبوری کی وجہ سے ہوتا تھا ورنہ آپ دل کے ایسے حلیم تھے کہ قصورواروں کے لئے برابر دعا فرماتے اور ان کی بہتری کے لئے کوشاں رہتے۔اس سلسلہ میں اپنے طرز عمل کے متعلق آپ فرماتے ہیں :- و بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ میں ان دوستوں سے ناراض ہوں جنہوں نے سوالات کئے ہیں۔مگر میری یہ عادت نہیں۔میں اس وقت تک ان کے لئے تین دفعہ دعا کر چکا ہوں۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ میں ان سے ناراض نہیں ہوں۔اب بھی میں ان کیلئے دعا کرونگا۔مجھے افسوس یہ ہے