سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 131 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 131

131 ”ہم نے مسلمانوں کے اتحاد کے لئے قربانی کی ہے اور ہر رنگ میں اس کے لئے امداد دی ہے۔مسلمانوں کے کونسلوں وغیرہ کے انتخاب میں ہم نے اپنے دوستوں کے تعلقات کی پرواہ نہ کی اور ان کو چھوڑ کر دوسروں کی امداد کی جب کہ یہ سمجھا کہ ان کا منتخب ہونا مسلمانوں کے فوائد کے لئے زیادہ بہتر ہے ہم نے اپنے عزیزوں کو ان کے لئے چھوڑ ا۔ان سے جھگڑے کئے۔۔۔۔۔۔پھر ہم نے ہر اس موقع پر جہاں رسول کریم صلی للہ یہ آلہ وسلم کی بہتک کی گئی دوسروں سے آگے بڑھ کر کام کیا یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں تھا بلکہ ایسا کرنا ہمارا فرض تھا۔مگر ہم نے اپنا فرض ہی ادا نہیں کیا بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بیدار کیا اور ان کی جگہ کام کیا۔ملکانوں کے ارتداد کے وقت ہم نے ان کے بچانے کے لئے کام کیا۔۔۔۔بنگال میں جب مسلمان مرتد ہونے لگے تو ہم وہاں پہنچے۔اور ان کو مرتد ہونے سے بچایا غرض ہم نے ہر وہ کام کیا جس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔میں اس خطبہ کے ذریعہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ صلح واتحاد ہو تو ہم سے شرافت اور تہذیب کے ساتھ سلوک کریں لیکن اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یا احمدیت کے متعلق طعن و تشنیع سے کام لیں گے تو ہرگز صلح نہ ہوگی نہ ہم کونسلوں کی کوئی حقیقت سمجھتے ہیں نہ ملازمتوں کو کچھ وقعت دیتے ہیں نہ تجارت کی کچھ قدر سمجھتے ہیں۔ہمارے نزدیک خدا اور رسول سب سے زیادہ عزیز ہیں۔میں غیر احمدیوں سے کہتا ہوں اگر وہ ہمارے مقتدا کے متعلق طعن و تشنیع سے کام لیں گے اور غیر شریفانہ رویہ نہ چھوڑیں گے تو ہم سانپوں اور درندوں سے صلح کرلیں گے مگر ان سے نہیں کریں گے (الفضل ۸ - فروری ۱۹۲۹ء صفحہ ۷ ) ی قطعی طور پر دیانتداری کے خلاف ہے کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جس میں کسی فریق کے حقوق کو نظر انداز کیا جائے۔میں مخالفت کی پرواہ نہیں کرتا اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں کا یہ حق ہے کہ اگر وہ دیکھیں کہ ان کے جماعتی حقوق کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے تو سب مل کر اس کا ازالہ کریں اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی جدو جہد کریں لیکن میرے نزدیک احمدیوں کو اپنا معیار بہت بلند رکھنا چاہئے اور انہیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ دوسروں کے حقوق