سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 115
115 اور ان کو پھر بُرا لگا۔دو تین بار ایسا ہی ہوا آخر میں نے ان کو کہا کہ اگر پھر ایسا مضمون لکھا تو سزا دوں گا۔اس پر ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہاں کام کرنے والوں کی کوئی قدر نہیں۔ان کے نزدیک قدر کے یہی معنے تھے کہ میں خدا، رسول، اسلام اور اخلاق کی کوئی پرواہ نہ کرتا اور اس پر خوش ہو جا تا کہ یہ شخص میری مدد کرتا ہے حالانکہ اصل چیز تو خدا تعالیٰ کی خوشنودی ہے اور میں تو خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں۔اگر وہی ناراض ہو کہ میں نے گالیاں دلوائیں تو میں فخر دین صاحب کی امداد کو کیا کرتا۔اس بات سے ان کو ٹھوکر لگ گئی اور یہی سخت کلامی ابتلاء کا موجب ہو گئی۔چنانچہ بعد میں جب ان کے بیان لئے گئے تو یہی معلوم ہوا کہ اصل ٹھو کر کا موجب یہی بات ہوئی ہے۔انہوں نے بیان کیا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب ناراض ہیں تو میں نے دو تین بار یہ دریافت کرایا که ناراضگی کا باعث کیا ہے تو معلوم ہوا کہ میرے جو مضامین فاروق میں شائع ہوتے ہیں ان کی وجہ سے ناراض ہیں اور بھی کئی شخص میں نے دیکھے ہیں کہ جن کو اسی بات سے ٹھوکر لگی کہ وہ سمجھے کہ ہم تائید کر رہے ہیں اور میں اسے نا پسند کرتا ہوں۔ایسی تائید جو غلط طریق سے ہو وہ مجھے کبھی پسند نہیں آئی اور میں کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اس رنگ میں میری مدد کی جائے اور کوئی انسان مدد کر بھی کیا سکتا ہے اگر خدا تعالیٰ ناراض ہو جائے۔اصل جو ابد ہی تو خدا تعالیٰ کے سامنے کرنی ہوتی ہے۔اگر اسلام احمدیت اور اخلاق جاتے رہیں تو خواہ کروڑوں مضامین لکھے جائیں ان کی قیمت اتنی بھی نہیں جتنی ان کاغذوں کی جن پر وہ لکھے ( الفضل یکم مئی ۱۹۴۰ء صفحه ۳۲) جاتے ہیں اخلاق فاضلہ کی تلقین اخلاق فاضلہ کے بلند معیار کو قائم رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا : - میں جماعت احمدیہ کے تمام مصنفوں اور مضمون نویسوں اور لیکچراروں کی واقفیت اور اطلاع کے لئے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آجکل ملک کی پر تشویش حالت کو دیکھ کر گورنمنٹ مختلف لوگوں کی تحریروں یا تقریروں پر نوٹس لے رہی ہے۔گو ہمارا یہ طریق ہے کہ گورنمنٹ کی مشکلات میں اس کا ہاتھ بٹایا جائے