سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 116
116 اور اس وقت بھی قیام امن میں ہر ایک جائز ذریعہ سے ہم اس کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ان مقدمات کے نتیجہ میں ایک حالت پیدا ہو رہی ہے جس کے متعلق میں اپنی جماعت کے لوگوں کو پہلے سے ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ مقدمہ میں گرفتار ہو کر جھٹ معافی مانگنے لگ جاتے ہیں اور جس بات کو انہوں نے دیانت داری سے لکھا تھا اس پر قائم رہنا پسند نہیں کرتے۔میں ان حالات کو افسوس کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور اپنی جماعت کے مصنفوں اور مقرروں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اول تو وہ اپنی تحریروں یا تقریروں میں ایسا رنگ ہی اختیار نہ کریں جس سے ملک میں فساد ہو یا شورش پیدا ہولیکن اگر با وجود ان کی احتیاط کے گورنمنٹ ان میں سے کسی پر کسی مصلحت سے کوئی مقدمہ چلائے تو میں ان سے امید کرتا ہوں کہ وہ مومنانہ غیرت کو کام میں لائیں گے اور بزدلی سے اجتناب کریں گے۔ہم گورنمنٹ کے لئے ہر ایک جائز بات کو اختیار کر سکتے ہیں لیکن بداخلاقی کو نہیں اور بُزدلی اور جھوٹ دوز بر دست بداخلاقیاں ہیں۔پس جو شخص مقدمہ سے ڈر کر معافی مانگتا ہے جب کہ اس کا نفس یہ کہتا ہے کہ اس نے غلطی نہیں کی وہ اپنے اس فعل سے اسلام کی ہتک کرتا ہے وہ دوگناہ کرتا ہے۔وہ بُزدلی کا اظہار بھی کرتا ہے اور جھوٹ بھی بولتا ہے اور پھر لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ اگر فی الواقع آپ میں سے کسی سے اگر جوش کی حالت ہی میں غلطی ہو جائے تو وہ اس کا اقرار نہ کرے کیونکہ اپنی غلطی کا اقرار نہ کرنا بھی ایسا ہی بُرا ہے جیسے ایک ایسے کام کو بُرا کہنا جسے ہم ویسے اچھا سمجھتے ہیں بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ جو شخص دیانت داری سے یہ سمجھتا ہو کہ اس نے جو کچھ کیا یا لکھا ہے اس میں ہر گز کوئی بات خلاف واقعہ یا خلاف تہذیب یا خلاف قانون یا بد نیتی سے نہیں کہی تو اسے گورنمنٹ کے غضب سے بچنے کے لئے خدا کے غضب کو اپنے اوپر نہیں بھڑ کا نا چاہئے۔میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر کوئی شخص خدانخواستہ کسی ایسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے جس میں اس کا قصور نہیں اور وہ بہادری سے اپنے ایمان اور ضمیر کی پیروی کرے تو میں اور میرے ساتھ اخلاص رکھنے والی تمام