سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 114
114 ضرورت نہیں تھی اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ میں نے کسی کو پٹوانا اور قتل کرانا تو الگ رہا آج تک سازش سے کسی کو چیر بھی نہیں لگوائی، کسی پر انگلی بھی نہیں اٹھوائی اور نہ میرے قلب کے کسی گوشہ میں یہ بات آتی ہے کہ میں خدانخواستہ آئندہ کسی کو قتل کرواؤں یا قتل تو الگ رہا نا جائز طور پر پٹوا ہی دوں۔اگر میں اس قسم میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت مجھ پر اور میری اولاد پر ہو۔ان لوگوں نے میری صحبت میں ایک لمبا عرصہ گزارا ہے اگر یہ لوگ تعصب سے بالکل ہی عقل نہ کھو چکے ہوتے تو یہ ان باتوں سے شک میں پڑنے کی بجائے خود ہی ان باتوں کو رد کر دیتے۔خدا تعالیٰ نے مجھے ظالم نہیں بنایا۔اس نے مجھے ایک ہمدرد دل دیا ہے جو ساری عمر دنیا کے غموں میں گھلتا رہا ہے اور کھل رہا ہے، ایک محبت کرنے والا دل جس میں سب دنیا کی خیر خواہی ہے، ایک ایسا دل جس کی بڑی خواہش ہی یہ ہے کہ وہ اور اس کی اولاد اللہ تعالیٰ کے عشق کے بعد اس کے بندوں کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کریں۔ان امور میں مجبوریوں یا غلطیوں کی وجہ سے کوئی کمی آ جائے تو آ جائے مگر اس کے ارادہ میں اس بارہ میں کبھی کمی نہیں آئی (الفضل ۲۰۔نومبر ۱۹۳۷ء صفحہ۱۱) سخت کلامی سے نفرت حضور تو اپنے خداداد منصب ، اپنی تربیت اور اخلاق فاضلہ کی وجہ سے کسی سے بغض نہیں رکھتے تھے اور آپ یہ بھی چاہتے تھے کہ آپ کی جماعت میں بھی یہ خوبیاں پیدا ہو جائیں۔اس امر کے لئے بعض دفعہ آپ کو قتی بھی برتنا پڑی تاکہ جماعت کا اخلاقی معیار بلند رہے اس کی ایک مثال ملاحظہ کیجئے :- یا د رکھنا چاہئے کہ سخت کلامی اخلاص پر دلالت نہیں کرتی۔اس کی ایک تازہ مثال آپ لوگوں کے سامنے ہے۔یعنی میاں فخر الدین ملتانی کی۔ان کی ٹھوکر کا موجب ہی ان کی سخت کلامی ہوئی۔وہ ہمیشہ پیغامیوں کے خلاف سخت مضامین لکھا کرتے تھے۔میں نے ڈانٹا کہ یہ طریق مجھے پسند نہیں کہ مضامین میں گالیاں دی جائیں خواہ وہ میرے شدید مخالفوں کو ہی کیوں نہ ہوں۔یہ بات ان کو بُری لگی کہ میں تو ان کے لئے قربانی کرتا ہوں، ان کے مخالفوں کا مقابلہ کرتا ہوں اور یہ ناراض ہوتے ہیں۔انہوں نے پھر ویسا ہی مضمون لکھا اور میں نے پھر ڈانٹا