سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 70
4۔کو تاہ ہمتی اور بے یقینی کی وجہ سے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں سمجھتے کہ یہ زمانہ معجزوں کا زمانہ نہیں ہے وہ ایمان و استقامت کے اس معجزہ کے متعلق کیا کہیں گے کہ مشرقی پنجاب میں جہاں عام مسلمانوں سے زیادہ احمدیوں کی مخالفت تھی اور جہاں احمدیوں کی صرف غیر مسلموں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی طرف سے بھی ہمیشہ ہی مخالفت ہوتی تھی اگر مشرقی پنجاب میں اسلام کی روشنی کسی جگہ نظر آرہی تھی تو وہ صرف اور صرف قادیان تھا۔خدا تعالیٰ پر ایمان اور یقین محکم کی کشتی نوح پر سوار ہونے والوں نے خدا کی تائید و نصرت کے ساتھ ساتھ یہ نظارہ بھی دیکھا کہ جہاں مشرقی پنجاب اور ہندوستان کے دو سرے علاقوں سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی بے نظمی اور بے ترتیبی کی وجہ سے پاکستان پہنچتے ہوئے بے شمار نقصان مایه و شماتت همسایه " سے دو چار ہونا پڑا وہاں قادیان اور علاقہ کے احمدی خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی جانوں اور عزت کو بچا کر با وقار طریق سے پاکستان پہنچے۔جہاں ہمارے امام کی موجودگی اور حسن انتظام ہجرت کے زخموں پر مرہم لگانے کیلئے میر تھا۔اعداد و شمار اور حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ ہماری جماعت نے عملا مالی و جانی قربانی پیش کی۔ہماری جماعت نے غیر مسلموں کی مخالفانہ کارروائیوں کا کامیاب مقابلہ کیا۔اس کے باوجود دوران ہجرت ہمارا جانی و مالی نقصان نسبتاً بہت کم ہوا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت کو مرکز سے جو گہری اور جذباتی وابستگی تھی اس کی تی وجہ سے ہم میں سے ہر ایک صدمہ رسیدہ اور دل گرفتہ تھا۔مگر ہمارے امام کی تربیت کے فیض سے مایوسی و بد دلی کی کیفیت ہر گز نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد سب سے پہلے جس جماعت نے نظم وضبط کے ساتھ اپنے لائحہ عمل پر گامزن ہونے اور ترقی کے رستوں پر چلتے چلے جانے کا مظاہرہ کیا وہ صرف اور صرف جماعت احمدیہ ہے۔گویا ہجرت کے خونیں حادثہ میں جماعت نے تمام مشکلات و تکالیف کامومنانہ شان سے مقابلہ کیا اور اپنے مرکز کو کسی قیمت پر نہ چھوڑا اور دوسری طرف پاکستان میں اپنا مرکز قائم کر کے غر ہو کیسر ہو تنگی ہو کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہو کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے نہایت انکسار سے تو کل اور یقین کے عملی مظاہرے شروع کر دیئے۔حضرت مصلح موعود نے ایک ایسے دور اندیش مدبر کی بصیرت و فراست سے کام لیتے ہوئے