سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 69 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 69

۶۹ اور مکہ میں رہنے سے اس کی اشاعت کا کام باطل ہو جا تا تھا اس لئے آپ نے مکہ چھوڑنا قبول کر لیا۔میں نے بھی اسی سنت کے ماتحت قادیان کو چھوڑا ہے اور اب واقعات نے تصدیق کر دی ہے کہ میں اس میں حق بجانب تھا۔غرض دین کی اشاعت چونکہ سب سے اہم تھی اس لئے میں نے قادیان چھوڑنا قبول کر لیا اور پاکستان آ گیا"۔(الفضل ۱۸۔جولائی ۱۹۶۱ء) تقسیم برصغیر کے غیر متوقع خوفناک حالات میں حضور مسلمانوں کو بار بار غیرت ایک اور عہد دلاتے ہوئے اس امر پر آمادہ کرنے کیلئے کوشاں رہے کہ وہ ان علاقوں کو خالی چھوڑ کر نہ جائیں۔مسلمانوں میں اگر کوئی مخلص قیادت اس بات پر آمادہ ہو جاتی کہ وہ اپنے علاقوں کو نہیں چھوڑیں گئے تو یہ کوئی ایسی ناممکن بات نہیں تھی جو خلوص و قربانی اور اسلامی حمیت و غیرت کے باوجود حاصل نہ کی جاسکتی۔اس لئے آپ نے فرمایا۔کہ پیچھے چھوڑے جاتے ہو مدینے مہاجر بننے والو یہ بھی سوچا تا ہم جس مال و دولت کو قومی مفاد کی خاطر خرچ کرنے سے بخل بر ما گیا تھا وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نفسا نفسی کے عالم میں ہر شخص نے جائے پناہ کے لئے بھاگنا شروع کر دیا۔حضور کی قیادت و راہنمائی سے قادیان ان دنوں میں ایک جزیرہ کی شکل اختیار کر گیا تھا جہاں علاقہ کے تمام مسلمان جمع ہو گئے۔( تعصب اور بدنیتی کی پیداوار مسلمان کی خود ساختہ تعریف کا ابھی کوئی وجود نہیں تھا) اور انتہائی مخالف حالات کے باوجود جماعت نے ان مہمانوں کی ہر ممکن خدمت کی۔ایسے عالم میں جب قانون کی عملداری اور اخلاق و ایمان کی اقدار کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا تھا اور لوٹ مار قتل و غارت اور آبرو ریزی کا طوفان بد تمیزی ہر سو چھایا ہوا تھا۔جماعت کی اعلیٰ تنظیم اور تربیت کی وجہ سے جہاں جماعت کو دوسرے مسلمانوں کی مدد کی توفیق حاصل ہوئی وہاں دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ جماعت کا مرکز خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم اور فعال ہے۔اس وقت جب کہ بڑی بڑی مساجد، خانقاہوں ، مدرسوں اور گدیوں کی ویرانی ہر مسلمان کی آنکھ سے خون کے آنسو بہانے کا تقاضہ کر رہی تھی اور مشکلات و مصائب کا اندھیراد بیز سے دبیز تر ہو تا جا رہا تھا۔قادیان کی مسجد اقصیٰ کا مینار برابر چاروں طرف روشنی بکھیر رہا تھا اور موذن کی اذان یہ اعلان کرتی رہی کہ رب اکبر کی وحدانیت پر ایمان ویقین رکھنے والے ، سکھوں کی کرپانوں اور ہندوؤں کی مسلم کش سازشوں سے نہیں بلکہ صرف اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں۔اس زمانہ میں جب کہ لوگ اپنی