سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 71
< جو ملکی و سیاسی فتوحات اور وقتی نقصانات یا فوائد سے زیادہ اسلام اور اسلامی قدروں کا درد اور غیرت رکھتا تھا مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ میں ان لوگوں کو جو مشرقی پنجاب سے آئے ہیں کہتا ہوں کہ تم اپنے اپنے مقامات میں واپس جانے کی کوشش کرو اگر دور دور کے گاؤں میں نہیں جاسکتے تو تم لاہور ، سیالکوٹ اور قصور کے پاس پاس چلے جاؤ۔یہ تحصیلیں ایسی ہیں جو پاکستان سے لگتی ہیں اگر 44لاکھ مسلمان مشرقی پنجاب سے نکل آیا تو یا درکھو کہ چار کروڑ مسلمان جو یوپی، بمبئی اور مدراس میں رہتا ہے وہ سب کا سب مارا جائے گا اور سارا گناہ ان مسلمانوں پر ہو گا جو مشرقی پنجاب میں سے بھاگ رہے ہیں۔تم دس دس میل سے بھاگ رہے ہو اور پاکستان میں آرہے ہو تو ان کے اور پاکستان کے درمیان تو تین چار سو میل کا فاصلہ ہے وہ کس طرح آئیں گے۔یقینا وہ اسی جگہ مارے جائیں گے لیکن اگر ان کو تسلی ہوئی کہ مسلمان بھگوڑے نہیں تو ان کے اندر بھی جرات پیدا ہو جائے گی اور وہ بھی اپنے اپنے مقام پر کھڑے رہیں گے۔ورنہ یا د رکھو جتنا ثواب حضرت معین الدین چشتی حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت فرید گنج شکر والوں کو ہندوستان کو مسلمان بنانے کا ملا۔اس سے کہیں بڑھ کر عذاب تمہیں ہندوستان سے اسلام ختم کرنے کی وجہ سے (الفضل ۳۰۔ستمبر۷ ۱۹۴ء) حضور نے تقسیم سے قبل قادیان میں منعقد ہونے والے آخری جلسہ سالانہ میں اپنے افتتاحی خطاب میں یہ پر شوکت اعلان فرمایا۔ملے گا۔" عیسائیت نے سر اٹھایا اور ایک لمبے عرصہ تک اس نے حکومت کی مگر اب عیسائیت کی حکومت اور اس کے غلبہ کا خاتمہ ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ عیسائیت کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا کا بھی خاتمہ ہو جائے تا وہ کہہ سکیں کہ دنیا پر جو آخری جھنڈا لہرایا وہ عیسائیت کا تھا مگر ہمارا خدا اس امر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ہمارا خدا یہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا پر آخری جھنڈا عیسائیت کا لہرایا جائے۔دنیا میں آخری جھنڈا امحمد رسول اللہ سلیم کا گاڑا جائے گا اور یقیناً یہ دنیا تباہ نہیں ہوگی جب تک محمد رسول اللہ میر کا جھنڈا ساری دنیا پر اپنی پوری شان کے ساتھ نہیں لہرائے گا۔" (الفضل ۲۷۔دسمبر ۱۹۴۶ء) پاکستان پہنچتے ہی ہزاروں مشکلات اور روکوں کے باوجود اس مقصد عظیم کیلئے پورے