سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 68
ہجرت مقدر ہے تو میں نے قادیان کو چھوڑ کر یہاں چلے آنے کا فیصلہ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام موجود تھا " داغ ہجرت " اور ادھر میری خوابوں میں بھی یہ بات تھی کہ ہمیں قادیان سے باہر جانا پڑے گا۔میں نے دیکھا کہ یہ الہام تو موجود ہے مگر ابھی تک ہجرت نہیں ہوئی اس لئے یا تو یہ مثیل مسیح پر پیشگوئی صادق آئے گی اور یا اسے جھوٹا ماننا پڑے گا۔یہی وہ چیزیں تھیں جن کی وجہ سے ہمیں قادیان کو چھوڑنا پڑا۔پھر یہ فیصلہ میں نے خود نہیں کیا بلکہ جماعت کے دوستوں کی طرف سے مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ میں قادیان سے باہر آجاؤں۔ویسے میری ذاتی دلچسپیاں تو قادیان سے ہی وابستہ تھیں لیکن میرے سامنے دو چیزیں تھیں اول یہ کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں اور قادیان میں ایک نائب امیر مقرر کر دوں۔دوم یہ کہ میں اب سب کاموں کو ترک کر دوں جو میرے سپرد کئے گئے ہیں اور قادیان میں ایک قیدی کی حیثیت سے بیٹھا ر ہوں اور اس بات کے حق میں کہ قادیان میں ہی بیٹھا ہوں ایک رائے بھی نہیں تھی۔اس پر یہ فیصلہ ہوا کہ چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کا کام قادیان سے باہر آنے پر ہی ہو سکتا ہے اس لئے ہم جذباتی چیز کو حقیقت پر قربان کریں گے۔پس، میں نے ضروری سمجھا کہ آج میں دوستوں کو بتاؤں کہ ہم نے واقعات کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اور ہمارا قادیان سے باہر آنا ان حالات میں ہوا ہے۔اگر سقراط کے طریق پر عمل کرتے اور ہم قادیان میں ہی رہتے تو یہ بات غلط ہوتی کیونکہ ہمارے حالات سقراط کے حالات سے نہیں ملتے تھے۔ہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی مثال پر عمل کیا کیونکہ آپ کے حالات ہمارے حالات سے ملتے تھے۔دل رسول کریم الا اللہ کا بھی نہیں چاہتا تھا کہ آپ مکہ کو چھوڑیں لیکن جب آپ نے دیکھا کہ اس کے بغیر اس پیغام کو جو آپ دنیا کی طرف لے کر مبعوث ہوئے تھے نہیں پھیلایا جا سکتا تو آپ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم میر غار ثور سے نکلے تو آپ نے آب دیدہ ہو کر اور مکہ کی طرف منہ کر کے فرمایا۔اے مکہ باتو مجھے بڑا ہی پیارا تھا اور میں تجھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن افسوس تیرے رہنے والوں نے مجھے یہاں رہنے کی اجازت نہیں دی۔یہ فقرہ بتاتا ہے کہ رسول کریم می مکہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔آپ کو مکہ سے محبت تھی لیکن اشاعت اسلام چونکہ مقدم تھی