سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 507
۵۰۷ رہے۔یہ اصولی مسئلہ ہے اور اس میں اختلاف کر کے کوئی ہمارے ساتھ نہیں رہ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء) سکتا۔" اس موقع پر ہر طرف سے پر زور آواز میں آئیں کہ ہم سب حضور کے ساتھ متفق ہیں۔خدا تعالی کی تائید و نصرت کی برکت سے خلافت کے انعام سے سرفراز جماعت کی غیر معمولی ترقی اور حیرت انگیز فتوحات سے مخالفوں کی مخالفت اور حاسدوں کے حسد میں بھی اسی طرح اضافہ ہو تا چلا جاتا ہے اور ابتدائی انفرادی اور وقتی مخالفت کی بجائے منظم مخالفت شروع ہو جاتی ہے تاہم اطاعت اور تقوی شعاری کی برکت سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مارنے والے سے زندہ رکھنے والا اور ترقی دینے والا زیادہ طاقتور ہے۔اسی اصول پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور ارشاد فرماتے ہیں۔یاد رکھو اگر تقویٰ سے آپ لوگوں نے کام لیا اور میری اطاعت اور فرمانبرداری میں کام کیا تو ایک کیا دنیا بھر کی حکومتیں مل کر بھی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔تم خدا کے ہو جاؤ اور اس کے احکام مانو پھر خدا تمہارا ہو جائے گا اور اس کا حکم تمہاری تائید میں ہو جائے گا اور کوئی نہیں جو خدائی حکم کو توڑ سکے۔" (الفضل ۲۵- جون ۱۹۳۶ء) خدائی تائید و نصرت کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔”اے میرے دوستو! میں اپنے لئے کسی عزت کا خواہاں نہیں۔نہ جب تک خدا تعالیٰ ظاہر کرے کسی مزید عمر کا امیدوار۔ہاں خدا تعالیٰ کے فضل کا امیدوار ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ رسول کریم میں لیا اور اسلام کی عزت کے قیام اور دوبارہ اسلام کو پاؤں پر کھڑا کرنے اور مسیحیت کے کچلنے میں میرے گزشتہ کاموں یا آئندہ کاموں کا انشاء اللہ بہت کچھ حصہ ہو گا اور وہ ایڑیاں جو شیطان کا سر کچلیں گی اور مسیحیت کا خاتمہ کریں گی ان میں ایک ایڑی میری بھی ہو گی۔" (الفضل ۱۱۔جنوری ۱۹۴۵ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدائی بشارتوں کے مطابق جب اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف سدھارے تو ان انوار و برکات سماویہ کو جاری رکھنے کے لئے حضرت مولانا نورالدین پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔حضرت خلیفہ اول کے انتخاب سے یہ امرا ظْهَرُ مِنَ الشَّمْسِ