سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 508
۵۰۸ ہو گیا کہ اس انتخاب میں کسی جانبداری، قرابت داری اور دنیوی عوامل کا شائبہ تک نہیں ہے اور انتخاب اسی منشاء خداوندی و مشیت الہی کی کار فرمائی و جلوہ گری ہے جس کی طرف پہلے سے موجود خبریں اشارہ کر رہی تھیں۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جو خلافت قائم ہوئی اس کی امتیازی حیثیت تھی اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔ایک خلافت تو یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں سے خلیفہ منتخب کراتا ہے اور پھر اسے قبول کر لیتا ہے مگر یہ ویسی خلافت نہیں۔یعنی میں اس لئے خلیفہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمدیہ کے لوگوں نے جمع ہو کر میری خلافت پر اتفاق کیا بلکہ اس لئے بھی خلیفہ ہوں کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ اسے رائیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سر خرد ہو جائے۔جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفہ بھی روز روز نہیں آتے؟ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء صفحہ ۱۷) خلافت کی عظمت و شان سے بے بہرہ بعض مخالفوں کو خطاب کرتے ہوئے آپ فرماتے " یاد رکھیں کہ خدا کے کام کوئی نہیں روک سکتا۔خدا تعالیٰ میری مدد کرے گا اور میرے ہاتھ پر اسلام کو فتح دے گا۔درمیانی ابتلاء اس کی سنت ہیں اور میں ان سے نہیں گھبراتا۔وہ خدا سلسلہ کا رکھوالا ہے اور وہ خود اس کی حفاظت کرے گا میرا مقابلہ انسان کو دہریت سے ورے نہیں رکھے گا۔خدا تعالیٰ کے اس قدر نشانوں کا انکار ایمان کو ضائع کرنے کیلئے کافی ہے۔" (فاروق ۳۱۔جنوری ۱۹۲۹ء) خلافت کی منفرد قسم کی ذمہ داریوں کے بیان میں حضور ایک نہایت اہم مسئلہ ”عزل خلفاء" کی تشریح و وضاحت کرتے ہوئے اس بنیادی حقیقت کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں کہ خلیفہ۔