سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 506
A۔4 مقرر کرتا ہے۔باقی ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو الہام کے ذریعہ مقرر نہ کیا گیا۔تو اب مجھے کیوں الہام کے ذریعہ بتایا جاتا کہ میں خلیفہ ہوں۔ان میں سے ایک کے الہام کا بھی ثبوت نہیں دیا جا سکتا۔اور اگر کہا جائے کہ ان کو الہام ہو تا تھا تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کہ سکتا ہوں کہ مجھے بھی الہام ہوتا ہے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ مجھے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے۔فَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ۔(الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۳۱ء) صد را انجمن احمدیہ کے انتظامی امور کی بہتری اور اصلاح کے لئے حضور نے ایک کمیشن مقرر فرمایا۔کمیشن نے بڑی محنت سے بہت مفید اور قابل عمل مشورے دیئے تاہم کمیشن کی رپورٹ کے ایک حصہ سے ظاہر ہو تا تھا کہ خلیفہ اور خلافت کے بلند مقام اور روحانی مرتبہ کا اس میں پوری طرح اظهار و ادراک نہیں ہے۔حضور نے اس حصہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اور خلافت کی حقیقت و عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالٰی ہمارا گواہ ہے ہم ایسے لوگوں سے تعاون کر کے کام نہیں کر سکتے۔ہم نے اس قسم کے خیالات رکھنے والے لوگوں سے اختلاف کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے آپ کے پاس بیٹھے آپ کی باتیں سنیں۔خلافت خدا تعالیٰ کی ایک برکت ہے اور یہ اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک جماعت اس کے قابل رہتی ہے لیکن جب جماعت اس کی اہل نہیں رہتی تو یہ مٹ جاتی ہے۔ہماری جماعت بھی جب تک اس قابل رہے گی اس میں یہ برکت قائم رہے گی اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ مجلس شوری جماعت کی نمائندہ ہے اور اس کی نمائندہ مجلس معتمدین ہے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ ہم یہ خیال سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتے اور ہم اس کے مقابلہ میں ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن خلافت کو نقصان پہنچنے دینے کے لئے تیار نہیں۔اللہ تعالیٰ گواہ ہے میں صاف صاف کہہ رہا ہوں ایسے لوگ ہم سے جس قدر جلد ہو سکے الگ ہو جائیں۔۔۔۔اگر سارے کے سارے بھی الگ ہو جائیں اور میں اکیلا ہی رہ جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ میں خدا تعالیٰ کی اس تعلیم کا نمائندہ ہوں جو اس نے دی ہے۔مگر یہ پسند نہ کروں گا کہ خلافت میں اصولی اختلاف رکھ کر پھر کوئی ہم میں شامل