سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 505 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 505

۵۰۵ منصب خلافت پر فائز ہونے کے ابتدائی ایام میں ہی نہایت انکساری و خاکساری سے اپنے آپ کو نالائق قرار دیتے ہوئے مگر خدائی انتخاب کی عظمت و غیرت کی وجہ سے اپنی کامیابی کو یقینی سمجھتے ہوئے ایک ولولہ انگیز پر جوش بیان میں آپ فرماتے ہیں۔" میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنائے۔یہ اس کا اپنا فعل ہے یہ میری درخواست نہ تھی۔میری درخواست کے بغیر یہ کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جھکا دیں۔میں کیونکر تمہاری خاطر خدا تعالی کے حکم کو رد کر دوں۔مجھے اس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا۔گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اسے کیو نکر پسند آگیا لیکن جو کچھ بھی ہو اس نے مجھے پسند کر لیا اور اب کوئی انسان اس کر تہ کو مجھ سے نہیں اتار سکتا جو اس نے مجھے پہنایا ہے۔یہ خدا کی دین ہے اور کون انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے۔خدا تعالیٰ میرا مددگار ہو گا۔میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقت ور ہے۔میں کمزور ہوں مگر میرا آقا بڑا تو انا ہے۔میں بلا اسباب ہوں مگر میرا باد شاہ تمام اسبابوں کا خالق ہے۔میں بے مددگار ہوں۔مگر میرا رب فرشتوں کو میری مدد کے لئے نازل فرمائے گا ( انشاء اللہ ) میں بے پناہ ہوں مگر میرا محافظ وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی پناہ کی ضرورت نہیں۔اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے۔خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کرتا۔اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہو سکتی اور اگر سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آسکتا۔جیسے نبی اکیلا بھی نبی ہوتا ہے اس طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ نے جو بو جھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اسی کی مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا لیکن مجھے اس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گا"۔الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۳۱ء) میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلیفہ ہوں اور انہی خلفاء میں سے ہوں جنہیں خدا