سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 504 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 504

۵۰۴ لیکن دباؤ سے ماننا ہمارا کام نہیں بلکہ دباؤ کو کچلنا ہمارا کام ہے۔" بعض مخالفوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔الفضل ۸۔جون ۱۹۳۳ء) میں نہیں کہتا کہ تم خدائی سزا کا انتظار کرو میں جانتا ہوں کہ وہ آ رہی ہے۔آسمانوں والا خدا میرے ساتھ ہے اس لئے مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ خدائی فیصلہ کا انتظار کرو اور پھر حق کو پہچانو۔میں تم سے صرف یہ کہتا ہوں کہ خدا میرے ساتھ ہے اور جو کوئی بھی میرے خلاف اٹھتا ہے وہ یقینا خدا کی طرف سے سزا پائے گا اور اس کا اور اس کی پارٹی کا اثر و رسوخ اسے خدا کے غضب سے نہیں بچا سکے گا۔" (الفضل ۲۱ اپریل ۱۹۵۰ء) خدائی تائید و نصرت کے متعلق اپنے یقین کا اظہار کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔و جس کو خدا خلیفہ بناتا ہے۔کوئی نہیں جو اس کے کاموں میں روک ڈال سکے۔اس کو ایک قوت اور اقبال دیا جاتا ہے اور ایک غلبہ اور کامیابی اس کی فطرت میں رکھ دی جاتی ہے۔" الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۴ء) قرآن مجید میں سچائی کے مخالفوں کے رد عمل کا اس طرح ذکر آتا ہے کہ يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُ وَن وائے حسرت کہ جب بھی کوئی نوید حق و صداقت دنیا میں جلوہ گر ہوئی لوگوں نے سنجیدگی سے اس کی طرف توجہ کرنے کی بجائے استہزاء و تمسخر سے کام لیا۔ایسے ہی سلوک اور رد عمل کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں اور ان کے ماننے والوں کے لئے اور کوئی چارہ کار نہیں رہتا سوائے اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں اور ان کی زبان ہی نہیں ان کی کیفیت و حالت سے متی نصر اللہ کی آواز بلند ہوتی اور چارہ گر بے کساں کی طرف سے اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ کی بشارت ملتی ہے۔حضور کے درج ذیل ارشادات میں اسی بشارت کا ذکر و اظہار نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں مطمئن ہوں اور ہر شخص جو تم میں سے سچا ایمان رکھتا ہے وہ دیکھے گا بلکہ ابھی تم میں سے اکثر لوگ زندہ ہوں گے کہ تم ان تمام فتنوں کو خس و خاشاک کی طرح اڑتے دیکھو گے اور اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے جمال کی مدد سے سلسلہ احمدیہ ایک مضبوط چٹان پر قائم ہو جائے گا۔" (الفضل ۴۔جولائی ۱۹۳۷ء)