سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 464 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 464

۴۹۴ اپنی خوش اخلاقیوں سے موہ لے دشمن کا دل دلبری کر چھوڑ سودا نالہ دل گیر کا پیٹ کے دھندوں کو چھوڑ اور قوم کے فکروں میں پڑ ہاتھ میں شمشیر کے عاشق نہ بن کفگیر کا ملک کے چھوٹے بڑے کو وعظ کر پھر وعظ کر وعظ کرتا جا نہ کچھ بھی فکر کر تاثیر کا کل کے کاموں کو بھی ممکن ہو اگر تو آج کر اے مری جاں وقت یہ ہر گز نہیں تاخیر کا کم نہیں کچھ کیمیا سے سوز الفت کا اثر اشک خوں جو بھی بہا لعل بدخشاں ہو گیا اک مکمل گلستان ہے وہ مرا غنچہ دہن وہ خنده زن میں گل بداماں ہو گیا جب ہوا کون کہتا *۔ہے لگی دل کی بجھائے کوئی عشق کی آگ مرے دل میں لگائے کوئی قرب اس کا نہیں پاتا نہیں پاتا محمود کو خاک میں جب تک نہ ملائے کوئی۔*۔چادر فضل و عنایت میں چھپا کے پیارے مجھ گنہ گار کو اپنا ہی بنا کے پیارے نام کی طرح مرے کام بھی کر مجھ کو ہر و محمود قسم کے عیبوں سے بچا لے پیارے