سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 463
شکر خدا گذر گئی نازو نیاز میں ہی عمر مجھ کو بھی ان سے عشق تھا ان کو بھی مجھ سے پیار تھا *۔*۔دامن تھی ہے، فکر مشوش، نگہ غلط آئیں تو تیرے در مگر ساتھ لائیں کیا حرص و ہوا و کبر و تغلب کی خواہشات چمٹی ہوئی ہیں دامن دل سے بلائیں کیا را اس کو دیں سلامت دل مجھ کو دیا تھا آپ ہی نے مهاجر بننے والو بھی سوچا مدینے کہ پیچھے چھوڑے جاتے ہو ✰۔* مردوں کی طرح باہر نکلو اور ناز و ادا کو رہنے دو سل رکھ لو اپنے سینوں پر اور آہ و بکا کو رہنے دو پر اب تیر نظر کو پھینک کے تم اک خنجر آہن ہاتھ میں لو یہ فولادی پنجوں کے ہیں دن اب دست حنا کو رہنے دو مسلم جو خدا کا بندہ تھا افسوس کہ اب یوں کہتا ہے اسباب کرو کوئی پیدا جبریل و خدا کو رہنے دو مانے نہ مانے اس سے کیا بات تو ہو گی دو گھڑی قصہ دل طویل کر بات کو تو بڑھائے جا منزل عشق ہے کٹھن راہ میں راہزن بھی ہیں پیچھے نہ مڑ کے دیکھ تو آگے قدم بڑھائے جا