سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 465
۴۶۵ آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ با نیل مرام باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں کبھی تم کو ملے موقع دعائے خاص کا یاد کر لینا ہمیں اہل وفائے قادیاں مجھ کو حاصل نہ اگر ہوتی خدا کی امداد کب کے تم چھید چکے : * ہوتے مجھے تیروں سے۔ہمیشہ نفس امارہ کی باگیں تھام کر رکھیو گرا دے گا یہ سر کش ورنہ تم کو سیخ پا ہو کر علاج عاشق مضطر نہیں ہے کوئی دنیا میں اسے ہو گی اگر راحت میسر تو فنا ہو کر تجھ میں ہمت ہے تو کچھ کر کے دکھا دنیا کو اپنے اجداد کے اعمال پہ نازان نہ ہو آگ ہوگی تو دھواں اس سے اٹھے گا محمود غیر ممکن ہے کہ ہو عشق اعلان نہ ہو۔*۔تکلیف میں ہوتا نہیں کوئی بھی کسی کا احباب بھی کر جاتے ہیں اُس وقت کنارا مانا کہ تیرے پاس نہیں دولت اعمال ترا دنیا میں نہیں کوئی سہارا صورت احوال انہیں جا کے بتا تو مانا شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا