سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 37 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 37

۳۷ داغ ہجرت الہی جماعتوں کی ترقی و استحکام کے لئے ہجرت بھی ایک ضروری مرحلہ ہوتا ہے۔قدیم سے خدا تعالیٰ کا یہی طریق ہے اور مذہب کی تاریخ اس بات پر شاہد ناطق ہے۔تاہم یہ مرحلہ اپنی ذات میں بہت ہی مشکل کٹھن اور لرزہ خیز ہوتا ہے۔خدائی نوشتوں اور اپنی تقدیر کے مطابق ۱۹۴۷ء میں قادیان سے ہجرت اختیار کرنا پڑی۔اس کی کسی قدر تفصیل لکھنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عام قاری کی سہولت کے لئے ذیل میں ان اہم امور اور مسائل کی فہرست پیش کر دی جائے جو اس وقت سید نا حضرت فضل عمر کے سامنے تھے۔ویسے حضور بچپن سے ہی مخالفت کا سامنا کرتے چلے آرہے تھے بلکہ تاریخ احمدیت سے واقف بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کی مخالفت کا سلسلہ تو آپ کی پیدائش سے بھی قبل شروع ہو گیا تھا اور آپ کو ہمیشہ ہی مخالفت کے طوفانوں میں سے اپنا رستہ بنانا پڑا مگر ہجرت و تقسیم ملک کے وقت بھیانک مشکل مسائل کا ایک ایسا اجتماع ہو ا جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔مثلاً ا۔قادیان کی حفاظت۔جہاں احمدیوں کے علاوہ دوسرے مسلمان اور غیر مسلم بھی موجود تھے۔۲۔قادیان کی آبادی کی حفاظت۔۳۔قادیان کی آبادی کو متوقع مشکلات و خطرات کے لئے تیار کرنا اور ضروریات مہیا کرنے کا انتظام۔۴۔علاقے کے غیر از جماعت مسلمانوں سے تعلقات اور ان کی مشکلات میں ہر طرح کی امداد۔-۵- قادیان اور علاقہ کے احمدیوں کی ہنگامی حالات کے لئے تربیت۔۶۔حالات مخدوش ہونے پر قادیان کے باشندوں کی بحفاظت نقل مکانی۔۷۔پاکستان میں دفاتر ، عملہ ، سامان دفاتر اور سرمایہ کے بغیر نظام جماعت اور افراد جماعت کی خبر گیری۔۸۔قادیان مشرقی پنجاب سے آمدہ لٹے پٹے مہاجرین کی مناسب دیکھ بھال۔